ہائیڈرو پراجیکٹ پر مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر مذاکرات اتوار سے لاہور میں شروع ہو رہے ہیں۔ بھارت سے آبی ماہرین پر مشتمل ایک آٹھ رکنی وفد سنیچر کی شام ہوائی راستے کے ذریعے دہلی سے لاہور پہنچ گیا ہے۔ مذاکرات کے اس دور میں بھارت کے آٹھ ماہرین سے پاکستان کی دس رکنی ٹیم مذاکرات کرے گی۔ اس ٹیم میں پاکستان میں پانی و بجلی کی فراہمی کے ادارے واپڈا اور پنجاب کے محکمہ انہار کے افسران اور دیگرماہرین بھی شامل ہیں۔ بھارتی وفد کی قیادت انڈیا کے انڈس واٹر کمشن کے سربراہ کے ڈی مہتہ کر رہے ہیں۔ وفد اراکین کا لاہور ائر پورٹ پر پاکستان سے انڈس واٹر کمشن کے سربراہ جماعت علی شاہ نےاستقبال کیا۔ اس موقع پر بھارتی وفد کے سربراہ کے ڈی مہتہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستانی خدشات کو صیح طور پر سمجھ کر انہیں دور کریں اور اس تنازعہ کو حل کریں۔ سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ مذاکرات کرنے جارہے ہیں اور ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ یہ معاملہ دو طرفہ مذاکرات سے ہی حل ہوجاۓ۔ اس موقع پر ان سے سوال کیاگیا کہ اگر یہ معاملہ دو طرفہ مذاکرات میں حل نے ہوا تو پاکستان کیا کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اگر دونوں ملک کوئی معاملہ باہمی طور پر حل نہیں کر پاتے تودونوں ملکوں کے پاس اس کے حل کے لیے ورلڈ بنک سے رجوع کرنے کی حق موجو دہے۔ یہ مذاکرات تین روز جاری رہیں گے اور خیال ہے کہ بدھ کو بھارتی وفد وطن لوٹ جائے گا۔ بھارت زیر انتظام کشمیرکے ضلع بارہ مولا میں دریائے نیلم پر تین سو تیس میگاواٹ بجلی کا یہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ زیر تعمیر ہے۔ دریائے نیلم بعد میں دریائے جہلم میں جاگرتا ہے۔ماہرین کاکہنا ہے کہ اس پاورپراجیکٹ کی تعمیر کے بعد اس کا پانی بائیس کلومیٹر کی مصنوعی سرنگ سے گزرتا ہوا وولر جھیل میں جاگرے گاجو دریائے جہلم کے ہی راستے میں ہے۔ پاکستان کا کہنا ہےکہ کشن گنگا پراجیکٹ کی تعمیر سندھ طاس کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ بھارت اسے معاہدے کے مطابق قرار دیتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||