سیاچین پر مذاکرات مئی کے آخر میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے حکام اس ماہ کے آخری ہفتے میں سیاچن اور سر کریک کے مسئلے پر بات چیت کریں گے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ سیاچن کے مسئلے پر بات چیت دونوں ممالک کے وزرا اعظم کے درمیان 1989 میں طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں دونوں ممالک نے سیاچن کے حوالے سے غیر مشروط طور پر فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی ادارے یو این ایم او جی یعنی یونائٹڈ نیشن ملٹری آبزرور گروپ کو واپس بلانے کے بارے میں اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس گروپ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تعینات کیا ہے اور وہ کشمیر کے مسئلے کے حل تک تعینات رہیں گی۔ انہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر امریکہ میں ہونے والی کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اس معاہدے پر عالمی برادری کی طرف سے پاکستان کی جوہری ملک کی حیثیت کو تسلیم کرنے کے بعدہی دستخط کرے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سے جب کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر تعطل برقرار رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں، تو اس کے جواب میں جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کشمیر پر موقف اصولی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے سید علی شاہ گیلانی کے اس خدشہ پر کہ اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں کے حامی کشمیری رہنماؤوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے، ترجمان نے کہا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ گیلانی صاحب کا یہ خدشہ درست ثابت نہ ہو اور وہ لمبی عمر پائیں۔ بگھلیار ڈیم کے مسئلے پر ترجمان نے کہا کہ عالمی بینک کی طرف سے پاکستان اور بھارت کو تین ناموں کے پینل بھیجے گئے ہیں اور اس سلسلے میں نو مئ تک پاکستان اور بھارت اپنا موقف عالمی بینک کو بھیج دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ متنازعہ کشن گنگا ڈیم پر بات چیت کے لیے بھارت کے حکام کا ایک وفد اس ماہ کی سات تاریخ کو پاکستان آ رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل نہیں ہوا تو پاکستان بگھلیار ڈیم کی طرح کشن گنگا ڈیم پر بھی عالمی بینک سے رجوع کرے گا۔ عراق میں اغواکاروں کی طرف سے رہا کئے گئے پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار کی وطن واپسی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ملک جاوید پانچ مئی کو پاکستان پہنچیں گے۔ انہوں نے بریفنگ سے پہلے بتایا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز اس ماہ کی پانچ تاریخ سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے سات روزہ دورے پر ملائیشیا، برونائی، تھائی لینڈ اور سنگاپور جائیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کی طرف سے فوجی مشقوں کے بارے میں کہا کہ پاکستان کو اس پر تشویش نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک نے 1991 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ان مشقوں کے حوالے سے متفقہ طور پر وضع کئے گئے کچھ اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||