پاک بھارت فوجی رابطہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی کم کر نے کے لیے بات چیت کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان بدھ کو ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں گولہ باری کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ بھارتی فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس ٹھاکر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’ ہم نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی کمانڈر نے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے‘۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ اس نے منگل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں پر مارٹر گولے پھینکے ہیں۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی افواج کا اس گولہ باری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پاکستانی فوج نے یہ گولہ باری بھارتی فوجیوں کی توجہ ہٹانے اور دراندازوں کو سرحد پار کرنے میں مدد دینے کے لیے کی ہو۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس گولہ باری سے ضلع پونچھ میں ایک لڑکی زخمی ہو گئی۔ بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل آر کے چبر نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ یہ یقینی طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور جنگ بندی کے بعد سے یہ اس قسم کا پہلا واقعہ ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ ہم نے اس گولہ باری کا جواب نہیں دیا‘۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ ان کے فوجیوں نے مارٹر گولوں کی آوازیں سنی تھیں مگر ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادرے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ پاکستان کی جانب سے کسی نے فائرنگ نہیں کی اور جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔‘ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان کا کہنا تھا ’ فوجیوں نے دھماکے ضرور سنے مگر ہمیں اس کے ماخذ کا علم نہیں ہے‘۔ یہ گولہ باری منگل کو بھارتی فوجیوں کے جانب سے پونچھ میں چار کشمیریوں کی ہلاکت کے بعد ہوئی ہے۔ نومبر 2003 سے پاکستان اور بھارت کے مابین کنٹرول لائن پر جنگ بندی ہے جبکہ گزشتہ برس سے امن مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||