مارٹر حملے، پاکستانی فوج کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف سےایک بھارتی فوجی چوکی پر مارٹر کے بارہ راؤنڈ داغے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق گولہ باری سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی بھارتی فوج نے جوابی کارروائی کی۔ بھارتی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا یہ واردات اس فائر بندی کی خلاف ورزی ہے جو نومبر دو ہزار تین سے دونوں فریقوں میں قائم ہے۔ اس واقعے پر پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں پاکستان آرمی ملوث نہیں ہے اور نہ ہی یہ گولہ باری پاکستان کی طرف سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فائربندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے کچھ فوجیوں نے دھماکوں کی آواز ضرور سنی ہے لیکن پاکستان فوج کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھماکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے اندر ہوئے ہیں جن کی کی وجہ کوئی بارودی سرنگ بھی ہوسکتی ہے۔ لائن آف کنٹرول پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||