واپس جانے دیں: عسکریت پسند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کے روز سابق کشمیری عسکریت پسندوں نے ایک مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انہیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری کارروایئوں کے دوران مختلف اوقات میں کنڑول لائن عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئے اور پھر اپنے گھروں کو واپس نہ جاسکے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی طرف سے اس نوعیت کا پہلا مظاہرہ تھا۔ مظفرآباد میں ہونے والا یہ مظاہرہ ان سابق عسکریت پسندوں کی تنظیم حقیقی فورس کے زیر اہتمام ہوا۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم میں شامل افراد کی تعداد لگ بھگ چار سو ہے اور ان میں بہت سارے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن آج کے مظاہرے میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ حقیقی فورس کے چیئرمین سہیل احمد ڈار نے اپنے مطالبے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے بار بار پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ وہ ہمیں ماہانہ اتنی رقم دیں جس سے ہم اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کر سکیں لیکن ہمارے اس مطالبے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔‘ ڈار کا کہنا ہے کہ ’ہمارا اولین مقصد تو بھارت سے کشمیر کی آزادی ہے لیکن یہاں بیٹھ کر ہم کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ہم یہاں مالی پریشانیوں کا شکار ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم اپنے بچوں کو اچھی تعلیم نہیں دے سکتے ہیں۔ ہمیں یہ خدشات ہیں کہ کہیں ہمارے بچوں کو مستقبل میں کشکول نہ اٹھانا پڑے ۔‘ سہیل احمد ڈار نے کہا: ’ہمارا اب آخری مطالبہ یہی ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کھول دی جائے اور ہمیں گھر جانے کے لئے راستہ دیا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر واپسی کے بعد بھارتی افواج کے خلاف پتھروں اور کانگڑی سے لڑیں گے اور کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کو جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’یہی ہمیں اپنے عزت اور وقار کا راستہ نظر آتا ہے کہ ہمیں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے۔‘ حقیقی فورس میں شامل ان افراد کا ماضی میں مختلف کشمیری عسکری تنظیموں سے تعلق رہ چکا ہے لیکن بعد میں انہوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان تنظیموں سے علیحدگی اختیار کی۔ اب ان کا بس یہی ایک ہے مطالبہ کہ انہیں اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے ۔اس مظاہرے کے دروان پولیس اہلکار ساتھ ساتھ رہے لیکن انہوں نے اس کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||