’ کشمیر پرمذاکرات جاری رکھے جائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کھٹمنڈو میں پاکستانی اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے رہنماؤں کی تاریخی کانفرنس شرکاء کی اس امید کے ساتھ ختم ہو گئی ہے کہ کشمیر پر مذاکرات کا عمل جاری رہے گا ۔ یہ پہلا موقع تھا جب دونوں جانب کے کشمیری رہنما کسی فورم پر اکٹھے ہوئے ہوں۔ اس کانفرنس میں متعدد پاکستانی اور بھارتی سابق فوجی افسران، سفارتکار اور مفکرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل تھی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہنما سردار عتیق احمد خان نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور کوئی بھی ایک یا دو نشستوں میں اس کے حل کی امید نہیں کر سکتا لیکن اس طرح کی کانفرنسں تنازعے کے حل میں نہایت اہم کردار ادا کریں گی‘۔ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی جانب سے میر واعظ عمر فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ اس کانفرنس کی ایک اچھی بات یہ تھی کہ اس میں ماضی کی طرف دیکھنے کے بجائے مستقبل کی طرف توجہ مرکوز کی گئی ہے‘۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حل باوقار ہونا چاہیے اور جو بھی حل تلاش کیا جائے وہ قابلِ قبول ہو۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیر میں تشدد کے خاتمے کے لیے اعتماد سازی کی فضا قائم کی جائے۔ کشمیری رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کا جو عمل کھٹمنڈو سے شروع ہوا ہے اسے نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس میں تیزی لائی جائے۔ اس کانفرنس کے روحِ رواں اطالوی پروفیسر پاؤلو راموسینو کا کہنا تھا کہ وہ اس کانفرنس کے اختتام پر ’انتہائی اطمینان‘ محسوس کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ستاون سال پرانا مسئلہ ستاون گھنٹوں میں حل تو نہیں ہو سکتا‘۔ یہ بات تو یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ اس کانفرس کے مٹبت اثرات کس حد تک پاک بھارت مذاکرات پر پڑیں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی کانفرنسیں ہوتی رہیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||