پاک بھارت بات چیت کا شیڈول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جامع مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بھارت کو مختلف معاملات پر بات چیت آگے بڑھانے کے لیے ملاقاتوں کا شیڈول تجویز کردیا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق روایتی اور جوہری معاملات کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے سلسلے میں ماہرین کی سطح پر اور ریلوے حکام کے درمیاں کھوکھرو پار سے موناباؤ ریل سروس کی بحالی کے لیے ملاقاتوں کے بارے میں علیحدہ علیحدہ تاریخیں تجویز کی گئی ہیں۔ مختلف سطحوں پر مجوزہ بات چیت کے لیے تاریخیں تو نہیں بتائی گئیں البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ تمام ملاقاتوں کی مجوزہ تاریخیں ماہ نومبر اور دسمبر کی ہیں۔ پاکستان کے کوسٹ گارڈ اور بھارت کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے حکام کے درمیاں ملاقات اور سرکریک میں سرحدی نشانات کا مشترکہ سروے کرنے کے لیے بھی علیحدہ تاریخیں تجویز کی گئی ہیں۔ انسداد منشیات کے متعلق دونوں ممالک کے حکام کی ملاقات اور مظفرآباد سے سرینگر تک بس سروس شروع کرنے کے لیے حکام کے درمیاں بات چیت کے لے بھی مختلف تاریخیں کی تجویز دی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریز کے درمیاں امن و سلامتی اور جموں وکشمیر کے متعلق بات چیت کے لیے دسمبر کے شروع کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیاں پانچ اور چھ ستمبر کو نئی دلی میں ہونے والی بات چیت میں مندرجہ بالا معاملات پر مجوزہ ماہ کے دوران بات چیت پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں وزراء خارجہ کے درمیاں طے پانے والے معاملات کو نظر میں رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ شیڈول مرتب کیا ہے اور اس ضمن میں بھارت کے جواب کے بعد مختلف سطحوں کی بات چیت کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے چند دن قبل بریفنگ میں کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی نیویارک ملاقات نے جامع مذاکرات میں جان ڈال دی ہے۔ ترجمان نے بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے جموں و کشمیر کے متعلق پہلی بار اپنے پرانے موقف سے ہٹ کر ’ممکنہ حل، تلاش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||