سیاچن گلیشیئر پر فوجی مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکام کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج سیاچن گلیشیئر سے اپنے اپنے فوجی واپس بلانے پر مذاکرات شروع کرنے والی ہیں۔ بھارت کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جانب سے فوج کے ہم منصب افسران ملاقات کریں گے تاہم اس کی تفصیلات ابھی طے کرنا باقی ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ جمعہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد کیا ہے۔ اکسٹھ سو میٹر اونچا یہ گلیشیئر کشمیر میں واقع ہے۔ یہ گلیشیئر دونوں ممالک کے درمیان سن انیس سو چوراسی سے فساد کی جڑ بنا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی کا دعوٰی ہے کہ یہ گلیشیئر ان کی سرزمین میں شامل ہے۔ یہ گلیشیئر لائن آف کنٹرول کے شمال میں واقع ہے اور یہ صاف طور پر کسی بھی ملک کی سرحد میں شامل نہیں ہے۔ اس گلیشیئر پر نہ صرف دونوں ممالک کے فوجی بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے ہیں بلکہ ان ممالک کے بجٹ کا بڑا حصہ اس پر صرف ہوتا ہے۔ اس سال جنوری سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور بظاہر دونوں ہی امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ نیویارک میں پاکستانی صدر پرویز مشرف نے گزشتہ جمعہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ یہ دونوں کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||