انٹرنیٹ کمپنیوں کو کروڑوں کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ پیر سے جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے ملکی معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور انٹرنیٹ کے زیرِ سمندر فائبر لِنک کا مناسب متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کومعاشی نقطہ نگاہ سے صدمہ پہنچا ہے۔ انٹرنیٹ سروس میں تعطل کے سبب جہاں عام انٹرنیٹ صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں اس ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے صدر انصارالحق کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی پچاس کے لگ بھگ کمپنیوں کو روزآنہ ایک کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انٹرنیٹ سروس میں تعطل سے ملک میں بین الاقوامی بینکنگ سمیت کال سینٹرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایشن آف کال سینٹر آپریٹرز کے صدر عبداللہ بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ کی ایک کمپنی بھارت میں اپنا کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں سالانہ دس ملین ڈالرز کامعاہدہ کرنے والی تھی مگر بدھ کو انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ پاکستان کے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی خبر کے بعد کمپنی نے اپنے فیصلہ پر نظرِثانی کر لی ہے۔ انٹرنیٹ سروس کے متاثر ہونے سے فوری نوعیت کے نقصانات سب پر عیاں ہیں مگر ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں میں حکومتی دعوے کے مطابق بر پا کیے گئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی شہرت کا ہے جسے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے گہنا دیا ہے۔ ماہرین کا دعوی ہے کہ طویل بریک ڈاؤن نے ملک میں انٹرنیٹ سسٹم کی قلعی کھول دی ہے۔ عبداللہ بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں زیرِ سمندر فائبر لِنک میں آئی اس چوتھی فنی خرابی سے پہلے وہ دنیا بھر میں حکومت کے اس دعوے سے اتفاق کرتے ہوئے کال سینٹرز کے فروغ کے لیے کوشاں رہنے کے لیے ملک میں سی می وی تھری کیبل کے علاوہ متبادل نظام دوسرے کیبل جسے فلیگ کہا جاتا ہے ہمہ وقت دستیاب ہے۔ انٹرنیٹ کے اس حالیہ بحران کے بعد انہیں پتہ چلا ہے کہ فلیگ بھی دراصل سی می وی تھری کیبل کے سہارے پاکستان تک آرہا تھا لہذا جب خرابی سی می وی تھری کیبل میں پیدا ہوئی تو فلیگ بھی بند ہوگیا اور اب پی ٹی سی ایل کے پاس سوائے وی سیٹ نامی سیٹیلائٹ سے تقریبا چونتیس میگا بِٹ کی بینڈ ودتھ حاصل کرنے کے کوئی چارہ نہیں تھا جوعام حالات میں درکار ایک سو پچپن میگا بِٹ فی سیکنڈ کی بینڈ ودتھ کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ثابت ہوئی۔ اسپاک کے جنر ل سیکریٹری وقار عابدی کے مطابق پی ٹی سی ایل نے بدھ کی صبح چونتیس چونتیس میگا بِٹ کے دو سیٹیلائٹ لِنک پاکستان انٹرنیٹ ایکسچینج سے کراچی اور اسلام آباد میں جوڑے ہیں جس سے انٹرنیٹ کی سہولت کچھ بہتر ہوئی ہے تاہم انٹرنیٹ ٹریفک کے دباؤ کے باعث انٹرنیٹ صارفین ابھی تک مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق برٹش ٹیلی کام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دبئی سے ایک جہاز تیس گھنٹے میں کراچی کے پانی میں پہنچنے کے بعد زیرِ سمندر فائبر لِنک میں فنی خرابی کی نوعیت کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا جس میں ممکن ہے کہ تقریبا بیس کلو میٹر لمبا کیبل سمندر کی تہہ میں بچھایا جائے اور اس سارے کام میں ابھی مزید تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے بینکوں اور ان کے انفرادی گاہکوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اور اس نوعیت کی تکنیکی خرابی کے اسٹاک ایکسچینج کے کاروبار پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کا اندازہ لگانا ابھی باقی ہے جبکہ اسپاک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس امریکہ سے فون آرہے ہیں کہ آیا واقعی پاکستان میں کوئی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ہوا ہے یا نہیں۔ ان میں سے بیشتر یہ معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ آیا ان کے سوفٹ ویئر بنانے والی پاکستانی کمپنیاں کہیں جھوٹا عذر تو پیش نہیں کر رہی ہیں۔ پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کی صدر جہاں آرا کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے اس حالیہ بحران سے سوفٹ ویئر ہاؤسز کو جو فوری نوعیت کا نقصان درپیش ہے وہ اپنی جگہ مگر ملک کے انٹرنیٹ سسٹم میں اس طرح کا سقم بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح کر ے گا جس کے سبب مستقبل میں ہونے والے معاہدے اور کاروبار کا پیلاؤ بری طرح متاثر ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||