دیووال کی خواتین کا پہلا ووٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی پنجاب کے شہر سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں دیووال کی ایک خاتون نے اپنے ووٹ ڈالنے کے حق کو اکیسویں صدی کے پلاٹینیم ایوارڈ کے مترادف قرار دیا ہے کیونکہ اس گاؤں کی خواتین کو پہلی بار کسی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت ملی ہے۔ تحصیل بھلوال کا یہ گاؤں بہت دور افتادہ علاقہ نہیں ہے اور اس گاؤں میں پکے مکان، پختہ سڑکیں اور تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں لیکن اس علاقے کی عورتوں کو اس سے پہلے کبھی بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھلوال ایک ایسا قصبہ ہے جہاں پنجاب کے دیگر بیشتر دیہی علاقوں کی طرح انتخابات میں لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ معمول کی بات ہے جہاں انتخابی چپقلش، ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہو وہاں مخالف امیدواروں کسی ایک نکتے پر متفق ہوجانا حیرت کا باعث ہے لیکن اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے بھلوال کی یونین کونسل نمبر تیس میں دو پولنگ سٹیشن تھے اور دونوں میں خواتین پولنگ ایجنٹ بھی تھیں اور ووٹر عورتیں بھی موجود تھیں اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ پولنگ سٹیشن نمبر ایک میں خواتین ووٹروں کی تعداد ساڑھے سات سو کے لگ بھگ تھی اور ووٹنگ ختم ہونے سے دو گھنٹے پہلے پریزائڈنگ افسر نے بتایا کہ صرف اڑتالیس عورتوں نے ووٹ ڈالے ہیں اور ان کے مقابلے میں پانچ گنا مرد ووٹر بھگتائے جا چکے ہیں۔ ایک خاتون پولنگ ایجنٹ نے کہا کہ یہ عورتیں پہلی بار ووٹ ڈالنے آئی ہیں اور انہیں یہ تک معلوم نہیں ہے کہ ووٹ کیسے ڈالنا ہے اس لیے کئی عورتوں کے مرد رشتہ دار ووٹ ڈالنے میں ان کی مدد کرتے رہے۔ حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ ایک امیدوار سید ریاض حسین کے حامی پولنگ ایجنٹ عورتوں کے ووٹ ڈالنے پر خاصے برہم تھے ان کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف امیدوار نے عورتوں کو الیکشن کے میدان میں ووٹ دینے کے لیے اتارا ہے جو ان کے بقول غیرت کے منافی کام ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’ کبڈی جوانوں کا کھیل ہے جس طرح وہ کھیل صرف مردوں کو زیب دیتا ہے اسی طرح الیکشن میں بھی صرف مردوں کو ووٹ دینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو جیتے گا وہ صرف مردوں کے ووٹوں سے جیتے گا اور جو ہارے گا وہ بھی صرف مردوں کے ووٹوں سے ہارے گا‘۔ انہوں نے اپنے مخالف امیدوار کے بارے میں کہا کہ اچھا ہوتا کہ وہ حوصلہ نہ ہارتے اور مردوں کے ووٹوں پر الیکشن لڑتے۔ سید غلام حسین کا کہنا تھا کہ’ آج بڑی بے عزتی کا دن ہے کہ عورتیں مردوں کے برابر ووٹ ڈال رہی ہیں‘۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ یہ کام نہیں ہونے دیں گے‘۔
ان کے مخالف امیدوار کے ایک حامی یہ تو نہ کہہ سکے کہ عورتوں کو ووٹ ڈالوانے کا کارنامہ ان کی پارٹی کا ہے بلکہ اس کے الٹ وہ یہ کہہ کر صفائی دیتے رہے کہ ’ ان کی پارٹی پر یہ جھوٹا الزام ہے کہ صرف ان کی پارٹی نے عورتوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے بلایا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’جب عورتیں ووٹ ڈال رہی ہیں تو ان کے مخالف کو بھی ووٹ ڈال رہی ہیں‘۔ ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ یہ اس لیے ایسا بیان دے رہے ہیں تاکہ علاقے کے مرد ووٹر ان سے ناراض نہ ہوجائیں۔ اس پولنگ سٹیشن پر جو عورتیں ووٹ ڈالنے آئی تھیں وہ بے حد خوش تھیں۔ ایک عمر رسیدہ عورت نے خواتین کے ووٹ ڈالنے کو اچھا اقدام گردانتے ہوئے دعا کی کہ’ آئندہ بھی اللہ مہربانی ہی رکھے‘۔ مچڑ گاؤں کی ایک خاتون یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھیں کہ ووٹ ڈالنے کی اجازت اچھا اقدام ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے ووٹ ڈالنے سے لڑائی بھی ہو سکتی ہے جو اس کا منفی پہلو ہے۔ ایک پچیس سالہ لڑکی نے کہا کہ یہاں کے مرد یہ سمجھتےہیں کہ اگر ان کی عورتیں ووٹ دیں گی تو انکی بے عزتی ہو جائے گی جو کہ ایک منفی سوچ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا جائز حق ملنا چاہیے۔ جب ان خاتون سے ان کا نام جاننا چاہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ نہ پوچھیں ایسا نہ ہو کہ آج جو اجازت ملی ہے وہ نام بتانے پر ختم ہوجائے‘۔ ان کے برابر کھڑی ایک دوسری نوجوان لڑکی نے کہا کہ ہمارے لیے یہ تحفہ ہی کافی ہے کہ ہم ووٹ ڈال سکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اکیسویں صدی کا پلاٹنیم ایوارڈ ہی ہے کہ وہ آج ووٹ ڈالنے آئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||