صندوق کاتقدس ایک بار پھر مجروح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نچلی سطح پراختیارات منتقل کرنے کےمنصوبے کےتحت ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے دوسرے انتخابات کا پہلا مرحلہ گزر گیا۔ 25 اگست کو دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے میں جو کچھ ہوا، اس میں انتخابات کرانے والوں کے لیے سبق ہی سبق ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی چیلنج ہے جو صاف شفاف انتخابی عمل کا دعوی کرتے نہیں تھکتے۔ صوبہ سندھ کے جن نواضلاع میں انتخابات ہو چکے ہیں ، ان میں سواۓ ضلع تو ان کی ہی دسترس میں رہے گا اب ان کے ضلعوں میں اکثر تعلقے کونسلوں میں منتخب ہونے والے کونسلروں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو صرف ہاں میں ہاں ملاۓ گی اس طرح جیسے کوئی ہاری اپنے زمیندار کی مرضی سے اختلاف کی جسارت نہیں کرسکتا ۔
فیض کے تمام سرچشمے ان سے ہی وابستہ افراد کے لۓ مخصوص رہیں۔ مخالفین کو مخالفت کی سزا اس طرح دی جائے کہ ان کی اور ان کے حامیوں کی گلیاں خراب رہيں اور نالیاں ابلتی ہی رہیں۔ گزشتہ انتخابات میں مخالفین نے اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے دوسرے انتخابات کے عمل کا حصہ اس لی بنیں کہ ان کے سیاسی مخالف ان کے حامیوں پر زندگی تنگ نہ کر سکیں ۔
انفرادی طور پر تو لوگوں کو فائدہ ہی فائدہ نظر آرہا ہے لیکن اجتماعی طور پر ووٹ کی پرچی سے بھرے جانے والےصندوق کا تقدس تو بری طرح متاثر اور اس کا حکمرانوں کے پاس کوئی علاج ہوتو ان لوگوں کو بھی ضرور آگاہ کریں جو بندوق کی بجاۓ صندوق کے تقدس اور طاقت پر تقین رکھتے ہیں، جو بلٹ کی بجاۓ بیلٹ کو اہم ہتھیار سمجھتے ہیں اور جو برچھی پر پرچی کو ترجیح اور فوقیت دیتے ہیں لیکن پاکستانی حکمراں جراح تھوڑی ہیں کہ جراحی کرتے پھریں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||