بیٹھو گے یا لیٹو گے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کچھ عرصے بعد واپس آنا ہوا۔ شہر پہلے سے کہیں زیادہ بے ہنگم نظر آیا۔ یہاں ٹریفک آپے سے باہر ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں کُھدی ہوئی ہیں۔ دھول، مٹی اور روز بہ روز بڑھتے ہوئے ٹریفک کا زہریلا دُھواں! غرض کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں معیارِ زندگی بہتر ہونے کی بجائے بظاہر ابتر ہی ہوئے چلا جا رہا ہے۔ کراچی کی یہ حالت ایسے وقت میرے سامنے ہے جب شہر میں چند روز بعد بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ گو کہ کہنے کو تو یہ انتخابی عمل غیرجماعتی بنیادوں پر ہے لیکن حقیقت میں اصل مقابلہ متحدہ مجلسِ عمل کی جماعتِ اسلامی اور متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان ہے۔ فریقین شہر کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔ لیکن ایم کیو ایم کی انتخابی مہم ٹارگیٹڈ ہے جس کا نشانہ ہے: سابق سٹی ناظم نعمت اللہ کی ذات۔ شہر میں ویسے ہی اشتہاری بورڈوں کی بھر مار ہے۔ جس طرف نظر پڑے درجنوں بڑے بڑے بورڈ ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نظروں کو چُبھتی ہوئی ایڈورٹائزنگ کی اس بھر مار میں سیاسی پارٹیاں بھی پیش پیش ہیں جس میں ایم کیو ایم دوسروں سے کہیں آگے ہے۔ آجکل شاز و نادر ہی شہر کی کوئی ایسی بڑی سڑک ہے جہاں ایم کیو ایم کے ’الطاف بھائی‘ کی تصویراور اس کے پرچم اشتہاری بورڈوں پر آویزاں نہ ہوں یا نعمت اللہ کے خلاف ایم کیو ایم کی مہم کے نعرے درج نہ ہوں۔ پبلسٹی کے حساب سے، شہر پر بظاہر ایم کیو ایم کا ہی قبضہ نظر آتا ہے۔ الیکشن سے پہلے شہر کے لوگوں میں خدشات ہیں ہے کہ اس بار بلدیاتی انتخابات پُر تشدد ہو سکتے ہیں۔ حکومت مُخالف امیدوار پہلے ہی شکایات کرتے رہے ہیں کہ اُنہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ شہر کی ایک بڑی پارٹی کے حوالے سے عام چرچا یہ سُننے کو مِل رہی ہے کہ اُس کے حمایت یافتہ لوگ اپنے مدِمقابل کھڑے ہونے والے اُمیدواروں کو دو ہی راستے پیش کر رہے ہیں: ’بیٹھو گے یا لیٹو گے؟‘ اسی ہفتے لیاری میں سُنی تحریک کے ایک امیدوار کے دن دھاڑے قتل اور بعد میں کراچی پولیس کی جانب سے تخریب کاری کا پلان بنانے والے جماعتِ اسلامی کے مبینہ کارکنوں کی گرفتاری نے الیکشن سے پہلے کی فضا اور کشیدہ کر دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||