سندھ: دس اضلاع، نو سو شکایات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے دس اضلاع کی پانچ سو سینتالیس (547) یونین کونسلوں میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن کو نوسو (900) تحریری شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ شکایات پولنگ کے روز کی ہیں۔ جبکہ پولنگ سے پہلے بھیجی گئی شکایات اس کے علاوہ ہیں۔ زیادہ تر شکایات حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی ہیں۔ جب کہ متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق) ، مسلم لیگ فنکشنل اور حکومت کے حامی خوشحال پاکستان پینل کے حامی امیدواروں کی طرف سے بہت ہی کم شکایات درج کرائی گئی ہیں۔ شکایت کرنے والوں میں عوام دوست، الخدمت، انسان دوست، وطن نواز، ترقی پسند گروپ کے امیدوار شامل ہیں۔ الیکشن حکام کو ٹیلی فون پر بھی سینکڑوں بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق زیادہ شکایات مخالف امیدواروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹوں کو ہراساں کرنا، پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنا، مسلح افراد کی جانب سے دھمکیاں دینا، بروقت پولنگ شروع نہ ہونے، سے متعلق تھیں۔ سب سے زیادہ شکایات کراچی سے ہوئیں جہاں سے چار سو کے قریب شکایتی فیکس الیکشن کمیشن کو موصول ہوئے۔ میرپورخاص سے اٹھانوے، سانگھڑ سے بہتر (72) ، عمرکوٹ سے اکسٹھ، جیکب آباد سے اڑسٹھ، ٹنڈوالہ یار سےاکیس، تھر پارکر سے پینتیس، ٹھٹہ سے چوبیس شکایایت کی گئی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر نے بھی گزشتہ روز کراچی میں بیشتر شکایات کو معمولی نوعیت کی قرار دیا ہے۔ جبکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بھی ایک پریس کانفرنس میں تسلیم کیا تھا کہ انفرادی سطح پر لوگ دھاندلی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ جس کی الیکشن کمیشن تحقیقات کرے گا۔ سرکاری طور پر نتائج کا اعلان ہفتے کے روز کیا جائے گا۔ جن کے خلاف امیدواروں کی اپیل کی سماعت ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کرینگے۔ اور وہ فیصلے میں خود مختار ہونگے۔ جن کے فیصلے کے خلاف امیدوار عدالتی ٹربیونل میں درخواست دائر کرسکیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||