’تخریب کاروں کا تعلق جماعت سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے تین دن قبل گرفتار ہونے والے پانچ مبینہ تخریب کاروں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، جو انتخابات کے دوران تخریب کاری کرنا چاہتے تھے۔ اسی بنیاد پر متحدہ قومی مومنٹ نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر غفور احمد نہ کہا ہے کہ اگر گرفتار ملزمان کا تعلق جماعت سے ہے تو اس کو عدلیہ میں ثابت کیا جائے۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار کے جماعت اسلامی پر پابندی کے مطالبے کے بارے میں پروفیسر غفور نے کہا کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی ایسی باتیں کرتے رہے ہیں۔ کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کراچی میں امن امان خراب کرنے کی کوشش کے الزام میں وسیم، ابوبکر، تنویر ملک، نعمان، جنید نامی پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وقت انہوں نے ملزمان کے گروپ اور سیاسی وابستگی بتانے سے گریز کیا تھا۔ پیر کے روز بلدیاتی انتخابات سے تین دن قبل پریس کانفرنس میں طارق جمیل نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم جمعیت طلبہ اسلام سے ہے اور ان کے رہنما اسماعیل ابو سعید اور جاوید فاروقی ہیں۔ اسماعیل اورنگی ٹاؤن سے لیبر کونسلر تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جماعت اسلامی سے الگ جنداللہ کی طرز پر اپنا ایک گروپ بنایا ہے اور وہ الیکشن میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ طارق جمیل نے بتایا کہ تمام ملزمان کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کے دیگر سترہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔ دوسری جانب متحدہ قومی مومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی جائے اور اس پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگایا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اب واضح ہوگیا ہے کہ کراچی میں انتخِابات میں جماعت اسلامی دہشتگردی کروائے گی۔ ہفتے کے روز کراچی پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی جدید اور مہلک ہتھیاروں کے علاوہ بارود استعمال کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||