BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 August, 2005, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تخریب کاروں کا تعلق جماعت سے‘

News image
بلدیاتی انتخاب کے موقع پر کئی علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے تین دن قبل گرفتار ہونے والے پانچ مبینہ تخریب کاروں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، جو انتخابات کے دوران تخریب کاری کرنا چاہتے تھے۔

اسی بنیاد پر متحدہ قومی مومنٹ نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر غفور احمد نہ کہا ہے کہ اگر گرفتار ملزمان کا تعلق جماعت سے ہے تو اس کو عدلیہ میں ثابت کیا جائے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار کے جماعت اسلامی پر پابندی کے مطالبے کے بارے میں پروفیسر غفور نے کہا کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی ایسی باتیں کرتے رہے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کراچی میں امن امان خراب کرنے کی کوشش کے الزام میں وسیم، ابوبکر، تنویر ملک، نعمان، جنید نامی پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وقت انہوں نے ملزمان کے گروپ اور سیاسی وابستگی بتانے سے گریز کیا تھا۔

پیر کے روز بلدیاتی انتخابات سے تین دن قبل پریس کانفرنس میں طارق جمیل نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم جمعیت طلبہ اسلام سے ہے اور ان کے رہنما اسماعیل ابو سعید اور جاوید فاروقی ہیں۔ اسماعیل اورنگی ٹاؤن سے لیبر کونسلر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جماعت اسلامی سے الگ جنداللہ کی طرز پر اپنا ایک گروپ بنایا ہے اور وہ الیکشن میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

طارق جمیل نے بتایا کہ تمام ملزمان کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کے دیگر سترہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔

دوسری جانب متحدہ قومی مومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی جائے اور اس پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگایا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اب واضح ہوگیا ہے کہ کراچی میں انتخِابات میں جماعت اسلامی دہشتگردی کروائے گی۔

ہفتے کے روز کراچی پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی جدید اور مہلک ہتھیاروں کے علاوہ بارود استعمال کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد