BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج بیرکوں میں واپس چلی جائے‘

آصف زرداری فائل فوٹو
آصف زرداری کا فوج کے بارے میں لہجہ بدل رہا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس سے پہلے کہ عوام فوج کو دھکے دے کر بیرکوں میں بھیجیں، انہیں فوری طور پر خود ہی واپس چلے جانا چاہیے۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ فوجی حکومت کو پانچ سال پورے ہوچکے ہیں اور نئے انتخابات لازم ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چور دروازے سے کبھی اقتدار میں آئی ہے نہ ہی آئندہ آئے گی۔ زرداری نے ایک سوال پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی فوج کو اقتدار میں شراکت دار نہیں سمجھا۔ ان کے مطابق وہ عوام کے ووٹ سے اقتدار لینا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ آزادانہ انتخابات پر زور دے رہے ہیں۔

آصف علی زرداری جو چند دن قبل تک فوج کو ’سول سوسائٹی، کا حصہ قرار دے کر ان کے حق میں بیان دے رہے تھے بدھ کے روز ان کا موقف اور لب و لہجہ اس کے برعکس لگ رہا تھا۔

انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ براہ راست حکومت کے کسی مجاز شخص سے کوئی بات چیت اب تک نہیں ہوئی البتہ ان کے مطابق کچھ لوگوں کا رابطہ ضرور ہے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے شوہر نے پنجاب حکومت اور پولیس پر غصہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کارکنوں کو دہشت گردی کے مقدمات میں چالان کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رویہ جاری رہا تو انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ان کے کارکن شدت پسندی پر نہ اتر آئیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے کیونکہ مہنگائی حد سے بڑھ گئی ہے اور والدین اپنے بچوں کو قتل کرکے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال کو جمہوری اور عوامی حکومت ہی بہتر کرسکتی ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا وہ پنجاب کا دورہ کرنا چاہتے جس کی شروعات وہ گجرات نہیں بلکہ بابا بلہے شاہ کے شہر قصور سے کریں گے۔

انہوں نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا نام لیے بنا کہا کہ جو حکومت سے ہاں میں ہاں ملاتے ہیں انہیں جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن جب بھی وہ کسی شہر جانے کا پروگرام بناتے ہیں تو پولیس اس شہر سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کردیتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ وہ تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر نئے انتخابات کرانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں مجوزہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کرنے کا آغاز ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد