بلاول ہاؤس پولیس کےگھیرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پولیس نے جمعرات کو کئی گھنٹے تک پیپلز پارٹی کے مرکزی دفتر بلاول ہاؤس کوگھیرے میں لیے رکھا۔ آصف زرداری اسی بلاول ہاؤس میں مقیم ہیں اور انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جمعرات کو داتا دربار حاضری کے لیے جارہے ہیں۔ آصف زرداری کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمیل سومرو نے دعویٰ کیا کہ علی الصبح ہی بلاول ہاؤس کو محاصرے میں لے لیا گیا اور اردگرد کی سڑکوں پر ناکہ لگا کر بند کر دیا گیا اور کسی کوبلاول ہاؤس آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جمیل سومرو کا کہنا تھا کہ وہ صبح ساڑھے نو بجے آئے تو انہیں بھی ایئرپورٹ چوک پر ہی روک لیا گیا تاہم دوپہر سوا بارہ بجے محاصرہ کی شدت میں کمی آئی سڑکوں کے ناکے ہٹا لیے گئےاور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور پارٹی رہنماؤں کو بلاول ہاؤس میں جانے کی اجازت ملی لیکن ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو ابھی بھی روکا جارہا ہے۔ آصف زرداری کے مطابق انہیں داتا دربار حاضری سے روکنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے لیکن آج نہیں توکل اور کل نہیں تو پرسوں وہ داتا دربار پر حاضری ضرور دیں گے۔ حکومت پنجاب نے کسی بھی محاصرے اور نظر بندی کی تردید کی ہے اور بلاول ہاؤس ہر تعینات نفری کو سیکیورٹی انتظامات قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ کوئی محاصرہ یا نظر بندی نہیں کی گئی آصف زرداری جہاں مرضی آجا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ لاہور کے بلاول ہاؤس کے اردگرد سیکیورٹی کے لیے نفری تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے صبح نفری کی تبدیلی کے موقع پر کوئی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہو لیکن اب یہ غلط فہمی بھی نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||