BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 April, 2005, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارکنوں کی رہائی ورنہ جلوس: پی پی

News image
حزب مخالف کے احتجاج کے بعد سپیکر نے وہ تحاریک ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیں
پاکستان پیپلز پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے گرفتار کارکن رہا نہیں کیے گئے تو وہ جمعرات کے روز لاہور میں ہائی کورٹ سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی جلوس نکالیں گے اور اراکین اسمبلی گرفتاریاں پیش کریں گے۔

یہ اعلان راجہ پرویز اشرف اور اعتزاز احسن نے قومی اسمبلی میں بدھ کے روز نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے ایک درجن سے زیادہ اراکین اسمبلی نے سولہ اپریل کو لاہور میں اپنی گرفتاریوں اور پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف ایک جیسی تحاریک استحقاق پیش کیں۔ حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے ابتدا میں ان کی مخالفت کی لیکن حزب مخالف کے احتجاج کے بعد سپیکر نے وہ تحاریک مسترد نہیں کیں اور ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیں۔

پیپلز پارٹی کے اراکین کی تحاریک تو کمیٹی کو سپرد کردی گئیں لیکن حزب مخالف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی قاضی حمیداللہ کی گرفتاری کے خلاف حافظ حسین احمد کی پیش کردہ تحریک مسترد کردی گئی۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی میں جہاں حزب مخالف کے اراکین نے تحاریک استحقاق پیش کیں وہاں حکومتی رکن مخدوم احمد عالم انور نے بھی پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کے خلاف تحریک پیش کی جو سپیکر نے کمیٹی کے سپرد کردی۔

ایک موقع پر جب پیپلز پارٹی کے اراکین نے اپنی تحاریک استحقاق کے متعلق بات کرنا چاہی تو پارلیمانی امور کے وزیر نے سپیکر سے استدعا کی کہ حزب مخالف کے اراکین کو بات کرنے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ متعلقہ تحاریک کمیٹی کے سپرد ہوچکی ہیں اور ایک دن قبل ان پر بحث بھی ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر شیرافگن کی اس بات پر ایوان میں پیپلز پارٹی والوں نے سخت احتجاج کیا، جس سے شدید شور شرابہ ہوگیا۔ حزب مخالف کی جماعت کے اراکین نے وزیر کو لوٹا لوٹا کہا اور آوازے کسے۔

راجہ پرویز اشرف نے اس موقع پر کہا کہ ایک دن قبل جب انہوں نے اپنی تحاریک پر بات کی تھی اس وقت میڈیا نے بائیکاٹ کر رکھا تھا اور ان کی خبریں شائع نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنوں پر جلوس نکالنے کے جرم میں دہشت گردی کے مقدمات بنائے جارہے ہیں جبکہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوٹوں کو وزیر بنایا جارہا ہے۔

دریں اثناء صحافیوں نے گزشتہ تین دنوں سے جاری، قومی اسمبلی کی کوریج کا بائیکاٹ حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے بعد ختم کردیا۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی سربراہی میں تین وزراء نے صحافیوں کے نمائندوں سے بات چیت کی۔

وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا کہ صحافیوں سے کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھیننا حکومت کی پالیسی نہیں ہے اور ایسا کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کرنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے سولہ اپریل کو لاہور ایئرپورٹ پر آصف علی زرداری کے ساتھ دبئی سے آنے والے صحافیوں سے پنجاب پولیس کی بدسلوکی، تشدد اور ٹیپ ریکارڈر چھیننے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

وزیر داخلہ نے بعد میں قومی اسمبلی کے فلور میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت یقینی بنائے گی کہ آئندہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آزادانہ طور پر سرانجام دے سکیں اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت اور حزب مخالف کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمانی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں نے متفقہ طور پر دو دن سے زیادہ پریس گیلری میں نہیں بیٹھے اور ایوان کی کارروائی کی کوئی خبر شائع نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد