BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: صحافیوں کا بائیکاٹ
News image
سولہ اپریل کو لاہور میں صحافیوں پر ہونے والے پولیس تشدد، کیمرے، ریکارڈر اور قلم چھینے جانے کے خلاف منگل کے دن بھی اسلام آباد کے تمام صحافیوں نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

پیر کے روز سے شروع ہونے والا بائیکاٹ جہاں منگل بھی جاری رہا وہاں پارلیمان کی کارروائی کے بارے میں خبریں نہ دینے کا فیصلہ بھی برقرار رکھتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ صحافی اظہار رائے کی آزادی پر حکومتی پابندیوں کے خلاف دو دن مسلسل پارلیمان کی کوریج کا بائیکاٹ کریں۔

منگل کے روز ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا اور حزب مخالف کے دونوں اتحادوں، اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ اور متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے بھی صحافیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا۔

ایک موقع پر جب حکومت والے حزب مخالف کو منا کر ایوان میں لائے اور اعتزاز احسن نے مجوزہ قرارداد کا متن ایوان کو پڑھ کر سنایا تو وزیر قانون نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد کے بارے میں غلط بیانی کی جا رہی ہے اور حزب مخالف والے صحافیوں کو اشتعال دِلا رہے ہیں۔

صحافیوں نے وزیر قانون کے موقف کو رد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی اور یہ بھی واضح کیا کہ حزب مخالف کے احتجاج سے ان کا تعلق نہیں اور جو بھی جماعت اظہار رائے کی آزادی کے لیے صحافیوں کے احتجاج کی حمایت کرے گی وہ اس کا خیر مقدم کریں گے چاہے وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہو یا حزب اختلاف کا۔

منگل کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی’اے پی پی‘، سرکاری ریڈیو اور ٹی وی چینل کے صحافیوں نے بھی کام روک دیا اور بائیکاٹ کی حمایت کی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی اور اشفاق گوندل نے صحافیوں سے کیفے ٹیریا میں بات چیت کی۔ رؤف کلاسرہ نے انہیں بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ جانے والے صحافیوں کو کوریج کی اجازت ہے۔

لیکن ان کے مطابق حزب اختلاف کے کسی رہنما کی، چاہے وہ شہباز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، کوریج کرنے والے صحافیوں کی جہاں پٹائی کی جاتی ہے وہاں ان سے ٹیپ ریکارڈر، کیمرے اور قلم چھین لیے جاتے ہیں جو کہ اظہار رائے کی آزادی کے منافی اور انسانی، بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

صحافیوں نے وزیر مملکت سے کہا کہ ٹیپ اور کیمرے چھیننا غلط روایت ہے اور جب تک قومی اسمبلی اس کی مذمت نہیں کرے گی اس وقت تک صحافی بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔

پارلیمانی پریس گیلری کی کوریج کرنے والے بیسیوں صحافیوں نے اتفاق رائے سے پانچ رکنی کمیٹی بنانے کی منظوری دی اور اس کمیٹی کو معاملات طے کرنے کا کلی اختیار بھی سونپا ہے۔

کمیٹی میں سید سعود ساحر، نصرت جاوید، چودھری سکندر حیات، رؤف کلاسرہ اور بی بی سی کے اعجاز مہر شامل ہیں۔ نئی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کی صبح دس بجے بلایا گیا ہے جس میں احتجاج کے بارے میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سولہ اپریل کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کے ہمراہ دوبئی سے لاہور تک سفر کرنے والے صحافیوں پر پنجاب پولیس نے تشدد کرتے ہوئے انہیں کام کرنے سے روک دیا تھا۔

پولیس نے صحافیوں سے ٹیپ ریکارڈر، کیمرے اور قلم چھین لیے تھے اور جنگ اخبار کے رپورٹر مظہر طفیل اور اعجاز مہر کو کمانڈوز نے مارا اور دیگر صحافیوں کو دھکے دیتے اور مارتے ہوئے طیارے سے باہر لے گئے تھے۔

لاہور کے ہوائی اڈے پر تشدد کے بعد صحافیوں سے ان کے موبائل فون، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھینے گئے جو بعد میں فلمیں، تصاویر اور انٹرویو وغیرہ نکالنے کے گھنٹوں بعد واپس کئے گئے۔

صحافیوں کا موقف ہے کہ ٹیپ ریکارڈر، قلم اور کیمرے چھیننا ایک سنگین معاملہ ہے اور قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر اس روایت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی جائے جس میں پنجاب حکومت کے رویے پر بھی مذمت کی جائے اور واقعہ میں ملوث دو پولیس افسران ایس ایس پی آپریشن لاہور آفتاب چیمہ اور ایس پی سیکیورٹی مبین زیدی کو فوری معطل کیا جائے۔

66ایک الیکشن سے!
صوبہ سرحد کی سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ
66کسانوں کا مظاہرہ
ملتان میں کسانوں کا ڈبلیو ٹی او کے خلاف مظاہرہ
66’جلسہ نہیں جلوس‘
زرداری کو جلوس کی نہیں جلسے کی اجازت ہے
66پہ خیر راغلے
زرداری کو لاہور کے بجائے پشاور اترنے کی پیشکش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد