ملتان میں کسان تنظیموں کا مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر سے آئے ہوئے کسانوں نے جمعرات کے روز ملتان میں عالمی ادارہ تجارت یعنی ڈبلیو ٹی او کے زراعت سے متعلق مجوزہ معاہدوں کے خلاف ایک بڑے مظاہرے میں مطالبہ کیا کہ امیر ممالک اپنے زرعی شعبے کو دی جانے والی بھاری اعانتیں (subsidies) فوری طور پر بند کریں۔ مظاہرے کا انتظام کئی کسان تنظیموں نے مل کر کیا تھا۔مظاہرے سے پہلے ایک سیمنار بھی منعقد کیا گیا جس میں مقررین نے ڈبلیو ٹی او کے، بقول ان کے، استحصالی قوانین پر روشنی ڈالی اور مطالبہ کیا کہ ڈبلیو ٹی او کا آئندہ سربراہ کسی ترقی پذیر یا غریب ملک سے لیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا ڈبلیو ٹی او کے تحت کام کرنے والے معاہدہ برائے زراعت (اے او اے) میں امیر ممالک نے اپنے زرعی شعبوں کو اعانتیں دینے کے لیے کئی راستے ڈھونڈ نکالے ہیں جبکہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کی اس سلسلے میں سخت عالمی تـجارتی قوانین کے ذریعے حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاشتکار پاکستانی معیشت میں سب سے زیادہ استحصال زدہ طبقہ ہے اور عالمی تجارت کے قوانین لاگو ہونے کے بعد تو ان کی حالت مزید خراب ہوجائے گی کیونکہ امیر ممالک کی زرعی اشیاء اعانتیں حاصل ہونے کے باعث کم قیمت پر دستیاب ہوں گی جبکہ پاکستان جیسے ممالک جہاں لاگت پیداوار بہت زیادہ ہے وہاں کے کاشتکاروں کو مقابلے میں اپنی پیداوار بیچنے میں دقت پیش آئے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زراعت کے حوالے سے ترتیب دیے جانے والے عالمی تجارتی قوانین پر امیر ممالک کے دباؤ میں آنے کی بجائے اپنے کاشتکاروں کے مفاد میں فیصلے کرانے کی کوشش کرے۔ کاشتکاروں نے اراکین پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ان کے حوالے سے حکومت پاکستان کے مؤقف کو پارلیمان میں زیر بحث لائیں۔ مظاہرے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||