کاٹن سبسڈی ، امریکہ کی ہار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارہِ تجارت نے اپنے ایک فیصلے میں امریکہ سے کہا ہے وہ کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی یا سرکاری امداد دینا بند کر دے۔ امریکہ اور برازیل کے درمیان امریکی کاشتکاروں کو دی جانے والی سبسڈی کا تنازع عالمی ادارہ تجارت کے سامنے گزشتہ سال سے زیر سماعت تھا۔امریکہ میں ہر سال کپاس کے کاشت کاروں کو تین ارب ڈالر کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ تجارت نے جمعرات کو اپنے گزشتہ فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ فوری طور پر اپنے کاشت کاروں کو سبسڈی دینا بند کردے۔ ادارے نے ستمبر میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ سبسڈی دینا عالمی تجارتی قوانین کے خلاف ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف امریکہ نےاپیل دائر کر رکھی تھی جس کا فیصلہ جمعرات کو سنایا گیا۔ برازیل کا موقف تھا کہ امریکہ میں کاشت کاروں کو دی جانے والی سرکاری امداد کا اثر کپاس کی عالمی قیمت میں کمی کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے برازیل اور دوسرے کپاس پیدا کرنے والے ملکوں کے کاشت کاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ امریکہ کو اب کپاس کے کاشت کاروں کو دی جانے والی سبسیڈی کو عالمی تجارتی قوانین کے تحت کرنا ہوگا۔ عالمی ادارہ تجارت کی اعلی ترین عدالت ’ ڈبلیو ٹی او اپیلیٹ باڈی‘ یا اپیلوں کی سماعت کرنے والی عدالت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی پالیسی کپاس کے عالمی معاہدات سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس کو ان قوانین کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔ امریکہ نے دعوی کیا تھا کہ عالمی ادارہ تجارت کے ججوں کا امریکی کاشت کاروں کو دی جانے والی سبسیڈی کے بارے میں حساب غلط ہے۔ عالمی ادارہ تجارت کا فیصلہ ایک ایسے وقت سنایا گیا ہے جب تیس ملکوں کے تجارت کے وزراء کینیا میں عالمی زرعی تجارت میں اصلاحات پر بات چیت کر رہے ہیں جو ڈبلیوٹی او کے دوہا معاہدے کا لازمی جز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||