BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیوٹو پروٹوکول اور فضا میں آلودگی
بیجنگ کی سڑکوں پر آلودگی کا منظر
بیجنگ کی سڑکوں پر آلودگی کا منظر
دنیا میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور فضا میں آلودگی کو روکنے والا کیوٹو معاہدہ سولہ فروری سے لاگو ہوجائے گا۔ کیوٹو پروٹوکول کے تحت رکن ممالک پر لازمی ہے کہ اگلے دس برسوں کے دوران وہ فضا میں آلودگی پھیلانے والے گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں پانچ اعشاریہ دو فیصد سالانہ کی کمی کریں۔

اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لۓ ضروری تھا کہ ترقی یافتہ ملک، جو ماحول کی پچپن فیصد آلودگی کے ذمہ دار ہیں، اس کی توثیق کردیں۔ لیکن ماحول کو آلودہ کرنے والا سب سے بڑا ملک امریکہ سن دو ہزار ایک میں اس معاہدے سے مکر گیا اور اس نے توثیق سے انکار کردیا۔ تاہم امریکہ کے بغیر ہی یہ معاہدہ سولہ فروری سے لاگو ہوجائے گا۔

دنیا کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ چند عشروں سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ خشک علاقوں میں سیلاب آنا، یا ان علاقوں میں خشک سالی جہاں پانی کی کمی نہیں رہی ہے، فضا میں آلودگی، سخت سردی، یا گرمی میں شدت، سمندری سطح میں اضافے کی وجہ سے بعض ساحلی علاقوں کے شہروں کے ڈوبنے کا خطرہ وغیر عام ماحولیاتی مسائل ہیں۔

اس موقع پر آپ ہمیں یہ لکھئے کہ آپ کے علاقے میں گزشتہ برسوں کے دوران کیا ماحولیاتی تبدیلیاں آئی ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے علاقائی موسم میں شدت آرہی ہے؟ آلودگی کے خاتمے کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


ابراہیم، سیالکوٹ:
ہاں، ہم نے اپنے علاقے میں کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ہائی ٹیمپریچر۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ یہ تبدیلی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آئی ہے۔ ہمیں ان کارروائیوں سے باز رہنا چاہئے جن سے آلودگی پھیل رہی ہے۔

عبدالقدوس، کراچی:
جیسا کہ سائنسدانوں کی وارننگ سے واضح ہے گلوبل وارمِنگ آلودگی کی بڑی وجہ ہے۔ رکن ممالک کو کیوٹو معاہدے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم نے ماضی میں بھی جیسے دیکھا ہے حکومتیں ایسی باتوں میں دلچسپی نہیں رکھتیں، ان کے لئے سفارت کاری اور سیاست اہم موضوع ہیں۔

محمد آصف اچکزئی، چمن:
میں چمن کا رہنے والا ہوں۔ پچھلے نو سالوں سے ہم بارش کی ایک بوند کو بھی ترس جاتے تھے لیکن اب حال یہ ہے کہ وسط فروری میں کڑاکے کی سردی اور بارشیں پڑ رہی ہیں۔ موسم کی تبدیلی میں اللہ کی مرضی شامل ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
جس جگہ ہم رہتے ہیں وہاں ہم نے تیرہ سال میں موسم میں ناقابل یقین تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ سخت گرم موسم کے لیے مشہور ہے۔ ہمارے جیسے لوگ سارا سال اے سی میں ہی گزارتے ہیں۔ اس سال ہم دو مہینے سے سردیوں کے مزے لے رہے ہیں۔ سردیاں مڈل دسمبر سے شروع ہو کر مڈل جنوری تک بمشکل پہنچ پاتی تھیں اور اب فروری کے مڈل تک بھی موسم بہت اچھا ہے۔ پچھلے سال ہم بارشوں کو بالکل بھول چکے تھے لیکن اس سال اتنی زیادہ اور اتنی شدید بارشیں ہوئی ہیں کہ پاکستان یاد آگیا۔ اور ہاں متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست میں تو برف بھی پڑی۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے مباحثوں کی بجائے عملی قدم اٹھانا ہوگا اور یہ سب کچھ بہت چھوٹے پیمانے شروع کرنا ہوگا۔

حیات خان مری بلوچ، بلوچستان
کیوٹو معاہدے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سے ان ممالک کو فائدہ ہوگا کہاں حکومت اپنے عوام اور ملک سے ہمدرد ہو۔ پاکستان میں تو اللہ خیر کرے۔ کوئٹہ میں بارش ہو جائے تو لوف تیر کر دفتر جاتے ہیں۔ گندا پانی بہہ کر گلیوں میں
جمع ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میگا پراجیکٹ گوادر کی بندر گا، کالا باغ ڈیم، میرانی ڈیم جیسے بلوچستان کش پالیسیوں پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں پرانی گاڑیاں موجود ہیں جو دھواں چھوڑتی ہیں۔ یہاں صفائی کی طرف دھیان نہیں دیا جا رہا۔

شریف خان مری بلوچ، بلوچستان
جس کو آلودگی سے مرنا ہے وہ پاکستان کا رُخ کرے۔ کیوٹو معاہدہ صرف امیروں کے لیے ہے نہ کہ غریبوں کے لیے۔

نوید نقوی، کراچی
سب سے پہلے تو یہ کہ سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا اس معاہدے سے الگ ہو گیا تو پھر اس معاہدے کو لاگو کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ میں نے کبھی کراچی میں اتنی خراب گرمی پڑتے نہیں دیکھی۔

عاطف مرزا، آسٹریلیا
زیادہ سے زیادہ جنگلات لگانا چاہیں۔ تمام فیکٹریاں جو زیادہ آلودگی پھیلاتی ہیں ان کے خلاف سخت قسم کے جرمانے لگانے چاہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بڑھانا چاہیےتاکہ ٹریفک پر قابو پایا جا سکے اور کاروں کی تعداد میں بھی کمی کی جا سکے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
میرے شہر میں پانچ ہزار رکشے ہیں جو شور اور آلودگی کا باعث ہیں۔ رکشوں کے شور سے ہسپتال اور سکولوں میں بھی کام متاثر ہوتا ہے۔

عارف جبار قریشی، سندھ پاکستان
ایسے معاہدے ہونا ضروری ہیں۔ ماحولیات کے معاہدے سے امریکہ کا مکرنا افسوسناک ہے۔ سندھ میں ٹھٹھہ اور بدین میں سیلاب سے ماضی میں کافی جانی نقصان ہو چکا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے بھی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد