ماحول میں بہتری، مگر بہت تھوڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کے ماحولیاتی ادارے یورپین انوائرمنٹ ایجنسی (ای ای اے) کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کےماحول میں خارج ہونے والی گیسوں میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی ہے۔ مگر جتنی بھی ہوئی ، وہ دو سال تک خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیس میں اضافے کے بعد ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اس کمی کو پیش رفت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ای ای اے کا کہنا ہے کہ یہ کیوٹومعاہدے کے تحت لاگو ہونے والی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی طرف یورپی یونین کا پہلا قدم ہے۔ مگر اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ماحولیات کے بارے میں تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے یورپی یونین کے ممالک کو مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے متعلق ایک رپورٹ میں ای ای اے نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک سے ماحول میں خارج ہونے والی گیسوں میں 2001 سے 2001 تک صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کی وجوہات میں گرم موسم، صنعتی پیداوار میں کمی،اور کوئلے کی جگہ گیس کا استعمال شامل ہیں۔ اس کمی کے بعد خارج ہونے والی گیس 1990 کے مقابلے میں دو اعشاریہ نو فیصد کم ہو گئی ہیں مگر ای ای اے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ای ای اے کے مطابق سپین میں ماحول میں خارج ہونے والی گیسوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری قدم اٹھانے ہوں گے۔ ای ای اے کا کہنا ہے کہ کیوٹو معاہدے کو پورا کرنے کے لیے کئی اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں جنوری میں شروع ہونے والی ایک نئی ’ٹریڈنگ سکیم‘ شامل ہے۔ ای ای اے کی رپورٹ کے مطابق2001 سے 2002 تک گاڑیوں کی وجہ سے ہونے والی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کیوٹو معاہدہ ابھی تک قانونی طور پر لاگو نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اب تک تمام ممالک نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔ امریکہ سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیس خارج کرتا ہے مگر اس نے معاہدے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||