روس نے کیوٹو معاہدہ منظور کرلیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کی پارلیمنٹ’ ڈوما‘ کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق معاہدہ ’کیوٹو پروٹوکول‘ کی توثیق کے بعد اس پر عمل درآمد کے راستے میں آخری رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ کیوٹو پروٹوکول دنیا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ امریکہ کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد اسے دنیا میں نافذ العمل بنانے کے لیے سارا دارومدار روس کی حمایت پر تھا۔ امریکہ نے تین سال پہلے کیوٹو پروٹوکول پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کیوٹو پروٹوکول کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔اس معاہدے پر روسی صدر کے دستخط ہونے کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو سکے گا۔ روس کی طرف سے معاہدے کی توثیق کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کے لیے جتنے ملکوں کے دستخط کی ضرورت ہے وہ پوری ہو جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد عالمی حدت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انیس سو ستانوے میں اس معاہدے کے آغاز پر بعض ملکوں کے نزدیک کیوٹو پروٹوکول ایک ماحولیاتی معاہدے کی بجائے تجارتی مواقع کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||