BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 October, 2004, 01:55 GMT 06:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کیوٹو پر ہمارا موقف نہیں بدلےگا‘
News image
روسی پارلیمنٹ میں عالمی آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں کیوٹو معاہدے کی توثیق کی خبر کا دنیا میں عمومی خیر مقدم ہوا ہے لیکن امریکہ نے معاہدے پر اپنا موقف بدلنے سے انکار کر دیا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین نے اسے آگے کی جانب ایک قدم کہا ہے جبکہ یورپی یونین نے کا کہنا ہے کہ کیوٹو معاہدہ اپنی کمزوریوں کے باوجود دنیا والوں کے ہاتھ میں سب سے موثر ہتھیار ہے۔

یورپی کمیشن کے صدر رومانو پروڈی نے کہا کہ امریکہ کو اُس جنگ سے کنارہ کشی نہیں اختیار کرنی چاہۓ جو انسانیت کے مستقبل کے لیے موت و زندگی کی جنگ ہے۔ لیکن واشنگٹن میں ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ’ہم اب یہی سمجھتے ہیں کہ کیوٹو معاہدہ غیر حقیقی ہے اور ہم اپنا موقف نہیں بدلیں گے۔‘

کیوٹو معاہدہ قریباً سات برس پہلے منظور ہوا تھا۔ لیکن اب تک اس کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں تھی کہ عالمی آب و ہوا کی درستی کے لیے دنیا والوں کی نیت نیک ہے۔

اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لۓ ضروری تھا کہ ترقی یافتہ ملک، جو ماحول کی پچپن فیصد آلودگی کے ذمہ دار ہیں، اس کی توثیق کردیں۔ لیکن ماحول کو آلودہ کرنے والا سب سے بڑا ملک، امریکہ سن دو ہزار ایک میں اس معاہدے سے مکر گیا اور اس نے توثیق سے انکار کردیا۔ اب سارا انحصار روس پر رہ گیا تھا کے وہ توثیق کرے تو معاہدے پر عمل شروع کرایا جائے۔

روس کا معاملہ یہ تھا کہ جب معاہدہ طے ہوا تھا تو اس میں زہریلی گیسوں کی مقدار سن انیس سو نوے کے پیمانے پر مقرر کی گئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس میں کمیونزم تھا اور اس کی فیکٹریوں سے نکلنے والی گیسوں کی مقدار بہت زیادہ تھی۔

لیکن کمیونزم کے زوال کے بعد فیکٹریاں بند ہو گئیں اور ان کے ساتھ زہر آلود گیسوں کی مقدار بھی بہت کم ہو گئی۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ معاہدے کی توثیق سے وہ فائدے میں رہے گا۔

لیکن روسی مخالفین کہتے ہیں کہ جب ملک کی معیشت اٹھنا شروع ہوگی تو روس کو اس کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

صدر پوٹن بھی یہی موقف رکھتے تھے اسی لیے معاہدے کی توثیق میں پس و پیش سے کام لیا جارہا تھا۔

تو اب ایسی کونسی بات ہوئی ہے کہ حکومت توثیق کے لۓ تیار ہوگئ ہے؟۔اس کے دو اسباب بتائے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ روسی حکومت کو اپنے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار درکار تھا جس سے وہ بڑے بڑے صنعتی اداروں اور کمپنیوں کو مجبور کرسکے کہ بجلی اور گیس کا استعمال موثر طریقے سے کیا جائے اور توانائی کی بچت کے اقدام کۓ جائیں۔

لیکن دوسری بڑی وجہ یہ کہی جاتی ہے کہ جس وقت روس کو تجارت کی عالمی تنظیم میں شامل کرنے کی بات ہورہی تھی اس وقت یورپی یونین نے روس کی حمایت کی تھی اور اس کے بدلے میں صدر پوٹن نے وعدہ کیا تھا کہ کیوٹو معاہدے کی توثیق جلد از جلد کردی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد