’کیوٹو معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے عالمی حدت کے مسئلے کے حل کے لیے کیے جانے والے کیوٹو معاہدے میں شمولیت کے امکان کو ایک مرتبہ پھر رد کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئیرس میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس میں امریکہ کے اعلیٰ مصالحت کار نے کہا کہ کیوٹو معاہدہ ایک سیاسی دستاویز ہے اور اس کی کوئی سائنسی حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ نے سابق صدر کلنٹن کے دور میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن صدر بش نے اس کی توثیق کرنےسے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ امریکہ توانائی کی بچت کے اپنے منصوبے بنائے گا۔ امریکہ کے کیوٹو معاہدے کے بارے میں رویے سے یورپی ممالک اور ماحولیات کے ماہرین بہت ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیس پیدا کرتا ہے اور اس لیے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی حدت کو کم کرنے کے لیے زیادہ کوششیں کرے۔ کیوٹا معاہدہ اگلے دو ماہ میں قانونی طور پر نافذ ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||