BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 September, 2004, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش اور کیری کی سائنسی مہم
جان کیری اور صدر بش
جان کیری اور صدر بش کی سائنسی جنگ
امریکہ کے معروف سائنسی جریدے ’نیچر‘ نے صدر جارج بش اور سینیٹر جان کیری کی صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے حوالے سے ان سے سائنس کے متعلق سوالات کیے ہیں اور ان سے ان سے پوچھا کہ وہ ان مسائل کے متعلق کیا خیالات رکھتے ہیں۔

دونوں امیدواروں کو پندرہ سوالات پوچھے گئے اور ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے جوابات پندرہ سو الفاظ تک محدود رکھیں۔

صدر بش کے جوابات کو کاٹنا پڑا کیونکہ وہ مجوزہ حد سے بڑھ گئے تھے جبکہ کیری نے حد تجاوز نہیں کی۔

جو سوالات پوچھے گئے ان میں سٹیم سیل ریسرچ، موسمی تبدیلی، نئے جوہری ہتھیار، میزائل ڈیفنس، خلا میں انسان کا بھیجنا، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں اور امریکیوں کا رہن سہن شامل ہیں۔

موسمی تبدیلی

صدر بش نے ’نیچر‘ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات تسلیم کی کہ عالمی موسمی تبدیلی ایک سنگین ہے لیکن انہوں نے اس بات کو یہ کہہ کر چیلنج کیا کہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ابھی اس پر بڑا ابہام ہے۔

سینیٹر کیری نے اس بارے میں بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ کیوٹو معاہدہ اپنا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی تحقیق سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عالمی حدت کا عمل ہو رہا ہے۔ ’صدر بش نے کیوٹو معاہدہ کو رد کیا اور مذاکراتی میز سے بھاگ گئے‘۔

نئے جوہری ہتھیار

آجکل امریکہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ کس طرح چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو بنایا جائے۔ صدر بش نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کی بڑی اقسام چاہتا ہے۔ مثلاً زمین دوز بنکر تباہ کرنے والے جوہری ہتھیار۔

جان کیری نے صاف کہا کہ وہ نئے جوہری ہتھیاروں کے لیے دوڑ کو بالکل ختم کر دیں گے۔ سو فرق صاف ظاہر ہے۔

میزائل ڈیفنس

یہ صدر بش کی اولین ترجیح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’ہماری پالیسی یہ ہے کہ اچھی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے جلد از جلد بیلسٹک میزائل دفاعی نظام نصب کیا جائے۔

جان کیری نے تحقیق کی تو حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ میں جلد بازی میں میزائل ڈیفنس کے پروگرام کو آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہوں۔ ہمیں اس سطح پر ان کو نصب کرنے کے لیے پیسے نہیں خرچ کرنے چاہیئں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد