BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 August, 2004, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی انتخاب اور چرچ کی سیاست

صدر بش
اپنے دفتر کی دس منزلہ بلڈنگ میں ابھی تک مجھے صرف ایرک ٹلمین ملا ہے جو کالا امریکی ہے اور صدر بش کا دیوانہ وار حامی ہے۔ تھوڑی تحقیق کے بعد کھلا کہ وہ ایک نئے عیسائی فرقے کا ممبر ہے جس کا بانی اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے۔ اس کے معتقدین کو اپنی آمدنی کے گوشوارے مسیح موعود کی انتظامیہ کے حوالے کرنے ہوتے ہیں جو یہ طے کرتی ہے کہ ان کو اپنی ذات پر کتنا خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ اسی لیے ایرک ہمیشہ خستہ لباس میں ہوتا ہے۔

وہ اپنی آمدنی چرچ کو دے دیتا ہے اور وہی کرتا ہے جس کا حکم ملتا ہے۔ چونکہ اس کا چرچ بش کا ذبردست حامی ہے اس لیے وہ بھی اپنی برادری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صدر بش کے لیے دن رات کام کرتا ہے۔

ایرک اکیلا نہیں ہے بلکہ آج کے امریکہ میں کروڑوں ایرک ہیں جو مذہبی فریضے کے طور پر صدر بش کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کی ذہنی حالت وہی ہے جو انتہا پسند اسلامی جہادیوں کی ہے۔

صدر بش کے سیاسی ابھار میں امریکہ کے زرعی علاقوں کے علاوہ جنوبی ریاستوں کے قدامت پرست ایونجیلیکل چرچ کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس کو بائبل بیلٹ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان ریاستوں کی سیاست پر مذہب کی گہری چھاپ ہے۔

کیری، ایڈورڈز
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کے امریکہ پر بائبل بیلٹ کا قبضہ ہے کیونکہ اس وقت صدر بش بھی جنوبی ریاست ٹیکساس سے ہیں، سینیٹ کے ریپبلکن لیڈر بل فرسٹ جنوب کے گڑھ ٹینیسی سے ہیں اور کانگرس کے سپیکر ڈینس بیسٹرٹ کا تعلق بھی تقریباً اسی نوعیت کا ہے۔

صدر بش کی کابینہ میں بھی اس علاقے کے ممبران کلیدی وزارتوں پر متمکن ہیں۔ ان میں نمایاں شخصیت وزیر قانون جان ایش کرافٹ کی ہے جن کو صدر بش کا ’پیر بھائی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس پس منظر میں دیکھیں تو موجودہ صدارتی انتخاب میں صدر بش کا چرچوں سے مدوطلب کرنا غیر متوقع نہیں تھا۔

نیو یارک ٹائمز (شمارہ 19 اگست 2004 ) کے ڈیوڈ کرپیٹرک کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخاب میں چرچوں کا کردار پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہے کیونکہ صدر بش کی مخالفت بہت بڑھ چکی ہے۔ چرچوں کے لاکھوں، کروڑوں سرگرم کارکن اس انتخاب کو روحانی جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہیں۔

سینٹ لوئس کے جان اے ولسن جیسے لاکھوں چرچ پادری ہیں جو ہر ہفتے صدر بش کے لیے دعائیں مانگتے ہیں اور چرچوں میں اسقاط حمل اور ہم جنسوں کی شادی کے خلاف خطبے دیتے ہیں۔ یہ پادری اور ان کے معتقدین بھاری اکثریت میں صدر بش کے عراق حملے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے چرچوں نے اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے گروہ منظم کیے ہوئے ہیں جو کہ معاشرے میں خدائی فوجدار کا منصب نباہ رہے ہیں۔

چرچ
صدر بش کے حامی چرچوں میں سب سے زیادہ انتہا پسند وہ ہیں جن کو ’ایونجیلیکل صیہونی‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان کے قدامت پرست ایجنڈا میں امریکہ میں قدیم روایات کے تحفظ کے علاوہ اسرائیل کا غیر شروط دفاع بھی ہے۔

ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح السلام کا فلسطین کے علاقے میں ظہور قریب آگیا ہے۔ لیکن ان کے عقیدے کے مطابق یہ ظہور تب ہوگا جب فلسطین کے پورے علاقے سے فلسطینیوں کا خاتمہ ہو جائےگا اور اس ریاست میں صرف اور صرف یہودی رہ جائیں گے۔

وہ اپنے اس عقیدے میں اتنے انتہا پسند ہو چکے ہیں کہ ان کے اپنے ہی ایک ہم عقیدہ ڈاکٹر ٹونی کیمپالو نے یونائٹڈ میتھاڈسٹ چرچ کے نارتھ کیرولائنا میں 8 جون کو منعقد ہونے والے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایونجیلیکل کمیونیٹی اس قدر اسرائیل کی حامی بن چکی ہے کہ وہ فلسطینیوں سے پیار کرنا بھول گئے ہیں۔

ایسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے مذکورہ پروفیسر امریٹس نے مزید کہا کہ کچھ ایونجیلیکل اس مذہبی نظریے میں پھنس کر رہ گئے ہیں کہ جب تک مقدس علاقے مکمل طور پر یہودیوں کے قبضے میں نہیں آجاتے تب تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہو سکتا۔ یہ حضرات (فلسطینیوں کی) نسل کشی کا درس دے رہے ہیں جس کا مذہبی صحیفوں میں کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کو احساس ہونا چاہئیے کہ ان کے انتہا پسند رویوں کی وجہ سے فلسطینیوں کی مزید زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔

صدر بش اور اسرائیل کی حمایت میں چرچوں میں بھی گہری تقسیم ہے۔ مثلاً حال ہی میں پریسبیٹیرین ( Presbyterian) چرچ کے ایک سالانہ اجتماع میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سات ارب پینشن فنڈ کی اسرائیل میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ نیو یارک کے اخبار فارورڈ کے مطابق اس چرچ کے تیس لاکھ ممبر ہیں اور اس کا اثر و رسوخ کافی زیادہ ہے۔

اخبار کے مطابق اس فرقے کے سالانے اجتماع منعقدہ بونس آئرس ارجنٹینا میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ یہودیوں کو عیسائی بنانے کا مشن جاری رہے گا اور عیسائی صیہونیوں کے نظریے کی مخالفت کی جائےگی۔ اسی طرح سے پادری چارلس کارلسن کا چرچ اسرائیل اور صدر بش کے حامی چرچوں کے سامنے خاموش مظاہرے کرتا ہے اور عیسائی صیہونیت کے خلاف مواد تقسیم کرتا ہے۔

صدر بش کے لیے سرگرم چرچوں کا عقیدہ ہے کہ صدر بش خدا کے کلام سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا صدارتی انتخاب برائی کے خلاف اہاد ہے۔ وہ اسقاط حمل اور ہم جنس شادیوں کو روکنا اور عیسائیت کا بول بالا کرنے کو اپنا مذہبی فریضہ تصور کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں صرف صدر بش اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ اس لیے وہ دن رات ان کو دوبارہ منتخب کروانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد