ہمالیہ کے پگھلتےگلیشیئر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحولیات کے ماہرین نےخبردار کیا ہے کہ ہمالیہ کے پگھلتے ہوئے گلیشیئر علاقے کے لاکھوں لوگوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں اس مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی اور اس معاملے پر آخری رپورٹ نوے کی دہائی میں آئی تھی۔ گلیشیئر کی بھرتی ہوئی جھیلوں سے علاقے میں تباہ کن سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں ان گلیشیئروں کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی زندگی بھی خطرے کا شکار ہے جو اپنی بقا کے لیے ان گلیشیئروں سے نکلنے والے دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ نیپال کےمحکمہ آبی وسائل و معدنیات کے ترجمان ارون بھکٹا شریستھا کا کہنا ہے کہ’ یہی وقت ہے کہ ہم اس معاملے پر توجہ دیں ورنہ ایک بھیانک قدرتی آفت کبھی بھی آ سکتی ہے‘۔ نیپالی ہمالیہ کے علاقے میں 3300 گلیشیئر موجود ہیں اور ان میں سے 2300 گلیشیئروں کی اپنی جھیلیں ہیں۔ ان جھیلوں کی تعداد میں عالمی حدت(global warming) کی بنا پر اصافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماحولیات کے ماہرین کے مطابق کوئی بھی نہیں جانتا کہ کونسی جھیلیں اب تک بھر چکی ہیں اور ان جھیلوں کے نزدیک آباد گاؤں کے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اقدامات بھی نہیں کیے گئے ہیں۔ اگر ان جھیلوں کا پانی کناروں سے باہر آ جائے تو ایک بہت بڑا سیلاب نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور بھارت کی آبادی اور وسائل کو ملیامیٹ کر سکتا ہے۔ گذشتہ ستر برس کے دوران نیپال کے اردگرد ایسی تباہی کئی بار ہو چکی ہے۔ 1970 سے 1989 کے دوران جاپانی تحقیق دانوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کھمبو کے گلیشیئرتیس سے ساٹھ میٹر تک کھسک چکے ہیں۔ ڈاکٹر بھکٹا شریستھا نے کہا کہ ’ہمیں گلیشیئروں سے متعلق تازہ ترین ارضیاتی |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||