لاہور میں ریلی کا پروگرام منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی نے لاہور میں اپنے کارکنوں کی حراست کے خلاف جمعرات کو احتجاجی جلوس نکالنے کا پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک روز پہلے پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ وہ کسی کو جلوس نکالنےکی اجازت نہیں دیں گے اور اگر کسی کو شوق ہے تو وہ پورا کرکے دکھائے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ سے پنجاب اسمبلی تک جو احتجاجی ریلی نکالی جانی تھی اسے منسوح کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ احتجاج اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ دوسری طرف سولہ اپریل کو آصف علی زرداری کے دبئی سے لاہور آمد کے موقع پر ان کے استقبالی جلوس کو روکنے کے لیے پیپلزپارٹی کے جو کارکن ابھی تک زیر حراست ہیں ان میں سے کچھ کے خلاف مقدمات میں پولیس نے دہشت گردی کے قانون کے تحت دفعہ سات کا بھی اضافہ کردیا ہے جس کی وجہ سے ان کی ضمانتیں نہیں ہوسکیں۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے سینکڑوں کارکن ابھی تک زیر حراست ہیں جن میں ایک بڑی تعداد عورتوں کی ہے۔ لاہور میں احتجاجی جلوس نکالنے کا فیصلہ منگل کو پیپلزپارٹی پنجاب کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن بدھ کو پنجاب میں پارٹی کے سکریٹری اطلاعات نوید چودھری نے اچانک اس کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||