 |  خواتین کو ووٹ کا حق نہ دینے کا فیصلہ بظاہر تمام جماعتوں نے مل کر کیا۔ |
پاکستان کے صوبہ سرحد کے علاقے مالا کنڈ میں قومی اسمبلی کی نشست این اے پینتیس کے لئے ضمنی انتخاب میں بدھ کے روز پولنگ ہورہی ہے جس میں مقامی طور پر کئے گئے فیصلے کے بعد اکثر علاقوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ مالاکنڈ کے اس حلقے میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے سلیم سیف اللہ ، ایم ایم اے کے سید بختیار مانی اور پیپلز پارٹی کے انجینئر ہمایوں مقابلے کو خاصا سخت مانا جا رہا ہے۔ اگرچہ کئی پولنگ سٹیشنوں ہر خاصی گہما گہمی پائی جاتی ہے لیکن زیادہ تر خواتین کے پولنگ مراکز خالی پڑے ہیں اور علاقے کےلوگوں کے مطابق مقامی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ علاقے کے صدر مقام میں بٹ خیلا کے بازار میں کئی پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں نے بتایا ہے کہ خواتین کو ووٹ کا حق نہ دینے کے فیصلے پر تمام جماعتیں متفق تھیں تاہم سیاسی جماعتوں نے اس خیال کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ |