انتخابات: ناکام امیدوار عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد کچھ علاقوں میں سخت رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جبکہ امیدوار دھاندلی کے الزام لیکر عدالتوں میں پہنچ گئے ہیں۔ جن میں سے اکثریت کی اپیلیں رد کردی گئی ہیں۔ گزشتہ رات نیو کراچی کے علاقے میں پولیس پر پتھراؤ اور دو موبائل گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں الخدمت کے ناظم کے امیدوار عبدالستار دل سمیت چودہ افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ نیو کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ تین سو سے زائد افراد کے مجمع نے ٹائر جلائے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین حق پرست امیدوار کی کامیابی پر احتجاج کر رہے تھے ۔ ان کاالزام تھا کہ الخدمت گروپ کے امیدوار کو دھاندلی کر کے ہرایا گیا ہے۔ پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کرکے مشتعل لوگوں کو منتشر کردیا۔ واضح رہے کہ نیو کراچی کی یونین کاؤنسل چار سےالخدمت گروپ کے عبدالستار گزشتہ انتخابات میں بھی ناظم کامیاب ہوئے تھے۔ دوسری جانب سیشن جج جنوبی کی عدالت کے باہر بڑی تعداد میں امیدوار شکایت لے کر پہنچ گئے ۔ جس پر انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کرلیا۔ رٹرننگ افسر جو سیشن جج ہیں نے اکثر امیدواروں کی اپیلیں مسترد کردیں۔ جس پر وہ عدالت کے باہر انصاف کے لیے چلاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہارنے والے تمام امیدواروں کو رٹرننگ افسر نے ایک ساتھ طلب کیا اور بتایا کہ جو ہوگیا ہوگیا آپ کی اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں۔ عدالت میں موجود لیاری ٹاؤن کے ایک یوسی کےنائب ناظم کےامیدوار محمد عاصم نے کہا کہ ان کےلوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور تین بجے پولنگ اسٹیشن سے باہر نکالاگیا۔ ووٹوں کی گنتی کے وقت ان کے لوگ بھی موجود ہی نہیں تھے۔ نواز لیگ کے وطن دوست پینل کے ناظم کے امیدوار بابو فضل نے بی بی سی کو بتایا کہ’ رات تک ہم جیت رہے تھے اخبار اور چینل پر بھی نام آگیا مگر صبح کو
ملیر کی عدالت کے باہر بھی کچھ امیدواروں اور ان کے حمایتیوں نےنتائج سننے کے بعد نعرے بازی کی اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔ اس سے قبل کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کرنے کے الزام میں گرفتار دو پریزائڈنگ افسران سمیت چھ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ جبکہ اسلحہ لے کر پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے والے دو افراد کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیاگیا ہے۔ ان افراد کو جمعرات کو پولنگ کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مقامی مجسٹریٹ نے برنس روڈ کے علاقے میں وومین کالج میں ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر احمد سلیمان کو ضمانت پر رہا کردیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ منور سلطانہ نے پولنگ سٹیشن پر چھاپہ مار کر ووٹوں سے بھرے ہوئے چار بیلٹ بکس برآمد کیے تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ ناہید جبار نےصدر کےعلاقے میں اسٹمپ لگے ہوئے بیلٹ پیپر رکھنے کے الزام میں گرفتار پریزائڈنگ افسر محمد آصف کو بیس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ملزم سٹی گورنمنٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر بھی ہیں اور وہ پریزائڈنگ افسر کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔
عدالت نے اسلحہ لیکر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے والے دو ملزمان محمد عمر اور اور محمد اقبال کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ملزمان کے پاس اسلحہ نارتھ ناظم آباد میں انتخابات کے دوران فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار چار ملزمان کو بھی عدالت نے چوبیس اگست تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||