مولانا فضل الرحمٰن کی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقامی انتخابات سے اگر کسی پارٹی کو نقصان ہوا ہے تو وہ جمعیت علمائے اسلام (مولانا فضل الرحمٰن) ہے جوصوبہ سرحد میں اپنی مقبولیت کی وہ سطح برقرار نہیں رکھ سکی جو گزشتہ عام انتخابات میں اسے حاصل ہوئی تھی۔ جے یو آئی کے امیدواروں کو صوبہ سرحد میں پارٹی کی اپنی وزارت اعلیٰ ہونے کے باوجود حریف جماعتوں کی نسبت کم نشستیں ملی ہیں۔ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی رکن جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے الگ الگ گروپ بنا کر انتخابات میں حصہ لیا کیونکہ دونوں پارٹیوں کی درمیان نشستوں کی تقسیم پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔ جے یو آئی (ف) نے متحدہ ملت عمل کے نام سے جبکہ جماعت اسلامی نے الخدمت گروپ کے نام سے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ پہلے مقامی انتخابات کے پہلے مرحلے میں صوبہ سرحد میں پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے جسے گزشتہ عام انتخابات میں بہت کم نشستیں ملی تھیں۔ پشاور، چارسدہ، صوابی، مردان اور ٹانک میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان اضلاع میں اے این پی کے حمایت یافتہ امیدوار سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹانک جو مولانا فضل الرحمن کے رہائشی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحق علاقہ ہے اور پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں پر جے یو آئی (فضل) سے زیادہ نشستیں اے این پی کوملی ہیں۔ ٹانک سے مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی جو بعد میں انہوں نے خالی کردی تھی اور ضمنی انتخابات میں ان کے بھائی وہاں سے کامیاب ہوئے تھے۔
مقامی انتخابات کے موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف نے بار بار عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ان الیکشن میں مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو مسترد کردیں۔ کم از کم صوبہ سرحد کے نتائج سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اور اس کی رکن جماعت جی یو آئی کی مقبولیت صوبہ سرحد میں عام انتخابات کے مقابلہ میں کم ہوئی ہے۔ مقامی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے مقامی انتخابات سے چند روز پہلے یہ فیصلہ سنایا کہ دینی مدرسوں کی جاری کی گئی سندیں اس وقت تک میٹرک یا بی اے کے برابر نہیں جب تک یہ سندیں رکھنے والے کسی سرکاری بورڈ سے تین لازمی مضامین پاس نہ کرلیں۔ متحدہ مجلس عمل کے اڑسٹھ ارکان پارلیمینٹ نے دینی مدرسوں کی سندوں کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور ان کی نا اہلیت کے لیے ایک وکیل اسلم خاکی نے سپریم کورٹ میں دو سال سے ایک رٹ درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے قانون میں بی اے پاس ہونے کی شرط لازمی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد درخواست گزار نے عدالت عظمی سے اپنی رٹ درخواست پر جلد سماعت کے لیے کہا ہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں سے ارکان پارلیمنٹ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی دینی مدرسے کی سند کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ مجلس عمل اور خاص طور سے جے یو آئی کے ارکان کی بڑی تعداد کی نااہلیت کے خدشہ کے پیش نطر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی پارٹی پارلیمنٹ سے باہر اندر سے زیادہ خطرناک ہوگی۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اسناد کے مسئلہ پراگر ان کے خلاف فیصلہ ہوا تو ان کی حکومت سے نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہوجائے گی۔
یہ عدالتی فیصلہ اس اعتبار سے پارٹی کے لیے ایک دھچکہ تھا کہ اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے مسترد کردیا۔ مولانا فضل الرحمن اس فیصلہ کے بعد سے سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کررہے ہیں کہ انہوں نے تو آئین کے تحت حلف بھی نہیں اٹھایا۔ جے یو آئی مدرسوں کی رجسٹریشن کے معاملہ پر بھی حکومت سے کوئی رعایت حاصل نہیں کرسکی حالانکہ اس نے صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی سترہویں ترمیم کو منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا فضل الرحمن کو زیادہ عملیت پسند جبکہ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کو فوجی حکومت کے بارے میں سخت موقف رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ مقامی انتخابات میں جے یو آئی کی خراب کارکردگی کے بعد مولانا فضل الرحمن کی متحدہ مجلس عمل میں پوزیشن بھی متاثر ہونے کا امکان ہے اور چھ رکنی مذہبی اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد اب زیادہ موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||