الیکشن فراڈ بن چکا ہے: پروفیسر غفور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کے روز ہونے والے انتخابات میں حکومت مخالف جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ابھی نتائج آنا ہی شروع نہیں ہوئے تھے کہ مخالف جماعتوں نے ان کو تسلیم کرنےسے انکار کردیا۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پورا الیکشن فراڈ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہااس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلانات بے معنیٰ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج گشت کر رہی تھی لیکن پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود نہیں تھی۔ پولیس حکمران جماعت کی کارکن کی حیثیت سے کام کر رہی تھی۔ رینجرز کا عملہ موجود تھا لیکن اندر دھاندلی نہیں روک سکا۔ پروفیسر غفور کے مطابق ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور انتخابات کے دن بڑے پیمانے پر ریکارڈ توڑ دھاندلی کی گئی۔ پروفیسر غفور کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے فوج اور رینجرز کے عملے کو پولنگ بوتھ کے اندر تعینات کرنے کے احکامات نہیں دیے جس کے نتیجے میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات کے نتائج کو رد کردیا ہے۔ پی پی پی کے رہنما تاج حیدر، شیری رحمان اور جمیل سومرو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پی پی پی نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے دن چوہتر شکایات بھیجی ہیں جن میں امیدواروں کو ہراساں کرنے، تشدد، جعلی ووٹ ڈالنے، بیلٹ پیپر کی عدم دستیابی کی شکایت کی گئی ہیں۔ سنی تحریک نے انتخابات کو رد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں جہاں جہاں دھاندلی ہوئی ہے۔ ان کے نتائج روک کر عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائے جائیں۔ تحریک کے رہنما افتخار بھٹی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے متعدد مقامات پر اسلحے کے زور پر پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے اور وہاں مخالف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر بیلٹ باکس پر قبضے کے واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ انتظامیہ نے حکومت میں شامل ایک جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جمعیت علما اسلام سندھ کے رہنما قاری عثمان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات نے گذشتہ چھپن سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ایک منظم طریقے سے پولیس اور رینجرز کی سرپرستی میں دھاندلی کی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||