BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 August, 2005, 07:41 GMT 12:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کون کہاں ضلعی حکومت بنائےگا؟

بیلٹ بکس
ان انتخابات میں دھاندلی کی شکایات بھی سامنے آئیں
سندھ کے دس اضلاع میں منعقد ہونے والےانتخابات کے حتمی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کو چھوڑ کر باقی نو میں سے سات اضلاع میں حکمران اتحاد کے ضلعی حکومت بنانے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

دو اضلاع کشمور اور جیکب آباد میں حکمران اور پی پی پی کےحامی عوام دوست پینل کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

مجموعی طور پر کراچی میں ایم کیو ایم، ٹھٹہ میں حکومت کے حامی شیرازی گروپ، میرپور خاص میں ایم کیو ایم، حکومت کے حامی خوشحال پاکستان اور فنکشنل لیگ کےفقیر دوست، عمرکوٹ اور سانگھڑ میں فقیر دوست، نوشہرو فیروز میں جتوئی گروپ کو اکثریت حاصل ہے لیکن کشمور میں پیپلز پارٹی اور حکمران اتحاد کی تقریباً برابر پوزیشن ہے۔

جیکب آباد

جیکب آباد کی 40 یونین کونسلز میں سے تیئیس پر حکمران اتحاد نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک، ایک نشست مذہبی جماعتوں کے انسان دوست پینل اور وطن دوست کے پاس ہے۔ پیپلز پارٹی نے پندرہ یونین کونسلز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جیکب آباد واحد ضلع ہے جہاں تعلقہ گڑھی خیرو میں پیپلز پارٹی کے حامی امیدوار چھ کی چھ یونین کونسلز پر بلامقابلہ کامیاب ہوئے ہیں اور جنہیں حکمران اتحاد توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جیکب آباد میں چیئرمن سینٹ محمد میاں سومرو کی والدہ بیگم سعیدہ سومرو اور سردار مقیم کھوسو حکمراں اتحاد کی امیدوار ہیں۔ بیگم سعیدہ سومرو کو کامیاب کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکمران اتحاد کے بعض رہنما بیگم سومرو کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ بہرحال تعلقہ جیکب آباد اورگڑھی خیرو میں پی پی پی کے ناظمین ہی کامیابی حاصل کر سکیں گے۔اس ضلع کے سابقہ ناظم بجارانی کا تعلق عوام دوست گروپ سے تھا۔ کشمور کےضلع بننے کے بعد حکومت نے انہیں برطرف کردیا تھا۔

کشمور

بلدیاتی انتخابات سے قبل بنائے گئے ضلع کشمور کی سینتیس یونین کونسلز میں سے عوام دوست پینل نے چودہ اور مزاری گروپ نے پندرہ یونین کونسلز پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں پر پی پی کے ایم این اے میر ہزار خان بجارانی کے بیٹے سابق ضلع ناظم جیکب آباد شبیر بجارانی ضلع ناظم کے امیدوار ہیں۔ اس قبائلی زیرِاثر ضلع میں ان کے مقابلے میں جام صادق دور کے ایک وزیر سلیم جان مزاری حکمران اتحاد کی جانب سےامیدوار ہیں۔

نوشہرو فیروز

نوشہروفیروز میں اکیاون میں سے پینتیس یونین کونسلز میں حکمراں اتحاد کے جتوئی گروپ نےکامیابی حاصل کی ہے جبکہ پی پی نے سات، سید گروپ نے تین، لکیاری گروپ نے پانچ اور آزاد گروپ نے یونین کونسل کی ایک نشست جیتی ہے۔ سندھ کے اس وسطی ضلع میں جتوئی گروپ ضلع حکومت بنائےگا۔

سینئر سیاستدان غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے عاقب جتوئی ضلع ناظم کے امیدوار ہونگے۔ اس سے قبل جتوئی کے بیٹے مسرور حسن ضلع ناظم تھے۔ جتوئی گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی دوسرے گروپ سے اتحاد کیے بغیر اپنا ضلع ناظم منتخب کر سکتے ہیں۔

ٹنڈو الہ یار

حیدرآباد ضلع کی کوکھ سے جنم لینے والے نئے ضلع ٹنڈوالہ یار کی انیس میں سے سولہ یونین کونسلوں میں حکومت کی حلیف جماعتوں کے اتحادیوں نے جیتی ہیں اور پی پی صرف تین یونین کونسلز میں کامیابی حاصل کر سکی ہے۔

سابق صوبائی وزیر اور ایم پی اے عرفان گل مگسی کے مطابق ان کی بہن راحیلہ مگسی حکمران اتحاد کی جانب سے ضلع ناظم کی امیدوار ہیں۔ ان کے مقابلے میں پی پی کا کوئی بھی عہدیدار آسکتا ہے کیونکہ اب یہ انتخاب ہاری ہوئی جنگ لڑنے کے مترادف ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شاید راحیلا مگسی نئی ٹرم میں سندھ سے واحد خاتون ضلع ناظم ہوں گی کیونکہ خیرپور کی سابق ضلع ناظم نفیسہ شاہ اور نوابشاہ کی فریال تالپور کے لیے حالات سازگار نظر نہیں آتے۔

میرپور خاص

میرپورخاص کی اکتالیس میں ایم کیو ایم سمیت حکمران اتحاد نے اٹھائیس یونین کونسلوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی گیارہ یونین کونسلز میں جیتی ہے۔ ایم کیو ایم کے پاس چھ، خوشحال پاکستان کے پاس نو، فقیر دوست کے پاس گیارہ یونین کونسل کی نشستیں ہیں۔

حکمران لیگ اور اتحادیوں کی جانب سے ضلع اسمبلی میں اپوزیشن کے طور پر سرگرم رہنے والے ذوالفقار جونیجو اور سید ذوالفقار شاہ کے نام لیے جا رہے ہیں۔ اس ضلع کے سابقہ ناظم کا تعلق بھی پی پی پی سے تھا۔

سانگھڑ

سانگھڑ کی پچپن یونین کونسلز میں سے چالیس میں فقیر دوست پینل نے کامیابی حاصل کی ہے اور پیپلز پارٹی بمشکل پانچ یونین کونسلز پر جیت پائی ہے۔ اس صورتحال میں فنکشنل لیگ کے فقیر دوست پینل ناظم بننے کے واضح امکانات ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے ضلع ناظم کی نشست پر مقابلے کی پوزیشن میں تھی۔ یہاں تک کہ پیر پگارا کو اپنے ہی نامزد کردہ ضلع ناظم روشن جونیجو ہٹانے کے لیے پی پی کی مدد لینی پڑی تھی اور ضمنی انتخابات میں ضلع ناظم کا عہدہ پی پی کو دینا پڑا تھا۔ ضلع ناظم کے لیے پیر پگارا کے خلیفہ سابق ایم پی اے خدابخش راجڑ کا نام لیا جا رہا ہے۔

ٹھٹہ

ٹھٹہ کی پچپن یونین کونسلز میں سے انچاس پر شیرازی گروپ جیتا ہے اور چار یونین کونسلز میں پیپلز پارٹی نے فتح حاصل کی ہے۔ ضلع ناظم کے لیے شفقت شاہ شیرازی نے خود امیدوار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وہ گزشتہ ٹرم میں بھی ضلع ناظم رہ چکے ہیں۔

تھر

تھر میں چوالیس میں سے تینتالیس پر وزیر اعلی ارباب گروپ کے امیدوار جیتے ہیں۔ لہٰذا ارباب گروپ سے ہی ناظم آئے گا۔ جس کے لیے ایم این اے ارباب انور اور سابق ضلع ناظم ارباب عطااللہ کے نام لیےجا رہے ہیں۔ اس ضلع میں گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تین تعلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

عمرکوٹ

عمرکوٹ کی ستائیس یونین کونسلوں میں سے اکیس پر حکمران اتحاد کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ تین پر میمن گروپ اور دو پر پی پی کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ ضلع ناظم کے لیے سابق اقلیتی ایم این اے رانا چندر سنگھ کے بیٹے ہمیر سنگھ اور امان اللہ تالپور کے نام لیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد