بلوچستان اکثریت: حکومتی حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے مختلف دعوے کیے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کے ان کے اتحادی ایک دو اضلاع کو چھوڑ کر تمام اضلاع میں ضلعی حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ بلوچستان میں پہلے مرحلے میں چودہ اضلاع میں انتخابات ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ حکمران مسلم لیگ اور ان کے وہ اتحادی جو صوبے کی ترقی کے حق میں ہیں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ دو سو پچہتر یونین کونسلز میں سے دو سو چار پر ان کے حمایتی یا ان کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے حمایتی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر گوادر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ساحلی علاقے میں جہاں موجودہ حکومت نے میگا منصوبے شروع کر رکھے ہیں تیرہ میں سے نو یونین کونسلز پر ان کے حمایتی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جعفرآباد میں سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے حمایتی امیدواروں نے چھیالیس میں سے تقریبا چھتیش نشستیں حاصل کی ہیں اسی طرح نصیر آباد میں جمجلی گروپ اور پیپلز پارٹی نے آٹھ آٹھ اور چار نششتیں دیگر امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔ اس کے برعکس نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق نے کہا ہے کہ گوادر، خضدار، مستونگ اور نوشکی میں ان کے حمایتی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور وہ ان اضلاع میں اپنی حکومتیں بھی بنائیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ خاران میں حکومت اپنے حمایتی امیدواروں کو کامیاب کرانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ دو یونین کونسلز میں سے ایک پر نیشنل پارٹی کی ستر ووٹو کی برتری کو گیارہ ووٹوں سے شکست میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری یونین کونسل میں حکومتی امیدوار کو صرف ایک ووٹ سے برتری دلائی گئی ہے۔ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے ضلع قلعہ سیف اللہ میں جمعیت کے حمایتی امیدواروں نے تمام کی تمام پندرہ یونین کونسل میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ضلع پشین میں اڑتیس میں سے تیئیس یونین کونسل کے نتائج ان کے حق میں آئے ہیں اور اس طرح زیارت میں آٹھ میں سے چھ نشستوں پر ان کے حمایتی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج بالکل صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے مطابق آئے ہیں۔ رازق بگٹی نے کہا ہے کہ یہ انتخابات در اصل وفاقی حکومت کی پالیسیوں کا امتحان تھے اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اکثریت نے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||