سندھ: 12 اضلاع میں سے4 حساس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں۔ جن میں سے چار کو حساس قرار دیا گیا ہے۔جہاں فوج موجود ہوگی۔ حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، دادو، مٹیاری، جامشورو، بدین، سکھر، خیرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ، شھدادکوٹ، شکارپور میں پچیس اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اندرون سندھ کے اضلاع میں امن امان کو برقرار رکھنے کے لیے کراچی سے بھی رینجرز بھیجی گئی ہے۔ جب کہ سندھ کے کور کمانڈر اطہر علی نے کہا ہے کہ حیدرآباد، نوابشاہ، لاڑکانہ اور سکھر میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ فوج بھی موجود ہوگی۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں پی پی پی نے گزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی کی اہم شخصیات میں بینظیر بھٹو کا تعلق لاڑکانہ اور آصف علی زراری کا نوابشاھ اور مخدوم امین فہیم کا حیدرآباد سے ہے۔ دوسرے مرحلے کے بارہ اضلاع میں سے چار نئے تشکیل دیے گئے ہیں۔ ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، جامشورو اور شہدادکوٹ ضلعوں میں پہلی مرتبہ ضلع حکومتیں بنیں گی۔ سندہ کے ان بارہ اضلاع میں بانوے امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ جن میں سے دو ناظم اور دو نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کے لیے ان ضلعوں میں پچپن لاکھ چار ہزار پانچ سو ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ حیدرآباد میں حق پرست اور عوام دوست اور الخدمت گروپ میں مقابلہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ انتخابات میں یہاں عوام دوست پینل کی اکثریت نے کامیابی حاصل کی تھی اور مخدوم امین فہیم کے چھوٹے بھائی ضلع ناظم ہوئے تھے۔ ٹنڈومحمد خان میں عوام دوست اور حکومتی اتحاد میدان میں ہیں۔ یہاں اختلاف رائے کی وجہ سے خود حکومتی اتحاد کے امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ اسی طرح جامشورو، بدین، سکھر، نوابشاہ، لاڑکانہ، شکارپور، شہدادکوٹ اور شکارپور میں حکومتی گروپ اور عوام دوست پینل میں مقابلہ متوقع ہے۔ خیرپور میں عوام دوست اور پیرپگارہ کے حمایتی فقیر دوست گروپ میں مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔گزشتہ انتخابات میں نوابشاہ، لاڑکانہ، خیرپور، بدین میں بھی عوام دوست پینل نے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کی تھی ان اضلاع میں انہوں نے ہی ضلعی حکومت بنائیں تھیں موجودہ انتخابات میں ان کو سرکار کے حمایتی گروپ سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ شکارپور، خیرپور اور سکھر میں مختلف قبائل میں دشمنیوں کے باعث سخت حفاظتی انتظام کیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں رینجرز اور پولیس موجود رہیگی جب کہ فوج فلیگ مارچ کریگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||