حساس ضلعوں میں فوج آگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچیس اگست کو ہونے والے مقامی انتخابات کے لیے امیدواروں کی مہم منگل کی رات بارہ بجے ختم ہوجائے گی جبکہ حساس قرار دیے جانے والے ضلعوں میں شام سے فوج پہنچنا شروع ہوگئی ہے اور حکومت نے پولنگ کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اپنے قبضہ میں لے لی ہے۔ ملک کے چھپن ضلعوں میں پچیس اگست کو پولنگ ہونا تھی لیکن ڈیرہ بگتی میں تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ قلعہ عبداللہ میں انتخابات چند روز کے لیے ملتوی ہوگئے ہیں۔ اس لیے اب چون ضلعوں میں یونین کونسلوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ پنجاب کے اٹھارہ اور سندھ، سرحد اور بلوچستان کے بارہ بارہ ضلعوں میں پچیس اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پنجاب کے گیارہ حساس ضلعوں میں منگل کی شام سے فوج پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ راولپنڈی میں فوج کی تیرہ کمپنیاں پہنچ گئی ہیں۔ راولپنڈی میں تین روز پہلے ایک انتخابی جھگڑے میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ فیصل آباد میں بھی کل شام ہی فوج پہنچ گئی تھی اور اس نے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔ فیصل آباد شہر میں ایک انتخابی دفتر کے باہر فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ منگل کو پولیس نے فیصل آباد میں تمام امیدواروں کے دفاتر بند کردیے اور ان کے باہر لگے بورڈز، بینرز اور لائٹس اتار دیں۔ فیصل آباد شہر میں آج مختلف مقامات پر فوج کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ فیصل آباد کے قریب گوجرہ کے ایک گاؤں میں پولیس نے ناظم اور نائب ناظم کے چار امیدواروں کو امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار کرکے تین ماہ کے لیے نظر بند کردیا۔ ادھر لاہورمیں الیکشن سے ایک دن پہلے فوج شہر میں فلیگ مارچ کرے گی۔ شہر کے ایک سو نواسی پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر نے حکومت سے کہا ہے کہ مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پہلے مرحلے کی نسبت دگنی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے جائیں۔ پنجاب کے اٹھارہ ضلعوں میں الیکشن کا عمل اور سامان پہنچانے کے لیے انتظامیہ نے پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں اور ویگنیں اپنے قبضہ میں لے لی ہیں۔ لاہور میں منگل کی صبح سے ڈائیوو بسوں کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ویگنیں نہیں چل رہیں جس سے بس سٹاپوں پر لوگوں کے ہجوم کھڑے نظر آئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||