BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 August, 2005, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کے گیارہ اضلاع میں فوج

 فوج
فوج کو سکیورٹی کے لیے بلایا جائے گا
پچیس اگست کو مقامی انتخابات کے موقع پر پنجاب کے اٹھارہ میں سے گیارہ اضلاع کو حساس قرار دے کر وہاں فوج تعینات کی جائے گی۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر نے لاہور میں صوبہ کے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ساتھ انتخابات کے انتظامات کے سلسلے میں ایک ملاقات کی۔

اس اجلاس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہ اگست کو ہونے والے مقامی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بے بنیاد ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ کے انتخابات کو مزید شفاف بنانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صوبہ کے گیارہ اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں سکیورٹی کے لیے فوج کو بھی بلایا جائے گا۔ ان اضلاع میں لاہور، نارووال، راولپنڈی، جھنگ، فیصل آباد، بھکر، اوکاڑہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور قصور شامل ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اسلحہ لے کر چلنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے۔ مقامی انتخابات کا عمل شروع ہونے سے لے کر اب تک پنجاب میں پندرہ افراد انتخابات سے وابستہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ انتخابی جھگڑوں میں صرف فیصل آباد ضلع میں پانچ افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

پچیس اگست کو پنجاب کی اٹھارہ سو دس یونین کونسلوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ پنجاب کے ان اٹھارہ ضلعوں میں پندرہ سو سے زیادہ امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی کے رہائشی ضلع گجرات میں سب سے زیادہ ناظمین اور نائب ناظمین بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں اور ان سب کا تعلق حکومت کے حمایت یافتہ شجاعت گروپ سے ہے۔

پنجاب میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نشستیں ایسی ہیں جن پر کوئی امیدوار نہیں۔ ان میں سے ساڑھے چار سو اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہیں۔ لاہور کے قریب بنائے جانے والے نئے ضلع ننکانہ صاحب میں چار یونین کونسلوں میں ناظم اور نائب ناظموں کی نشستوں پر بھی کوئی امیدوار میدان میں نہیں۔

ننکانہ صاحب وہ ضلع ہے جہاں سے تین سکھ اور ایک ہندو امیدوار بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس دفعہ پہلی بار لاہور شہر سے بھی ایک سکھ امیدوار سردار اتر سنگھ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلی دروازہ، یکی گیٹ، موچی دروازہ وغیرہ پر مشتمل اندرون شہر کے اس حلقہ میں آٹھ سکھ ووٹ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد