BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 August, 2005, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوابی اور نوشہرہ میں دوبارہ پولنگ

خواتین ووٹر
صوابی اور نوشہرہ میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیے گئے تھے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ کے روز صوبہ سرحد کے نوشہرہ اور صوابی اضلاع میں سات پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم جاری کیا ہے جہاں اس کے مطابق خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا تھا۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اٹھارہ اگست کی پولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ہر انسان کا حق ہے اور اس سے کسی کو محروم کرنا انتخابی جرم ہے۔

جن پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا گیا ہے ان میں ضلع نوشہرہ میں جہانگیرہ یونین کونسل II کے تین خواتین پولنگ سٹیشن، پیر پیائی کے تین اور صوابی پبنی یونین کونسل کے ایک پولنگ سٹیشن پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا ہے۔

ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

الیکشن کمشنر نے نوشہرہ اور صوابی کے ضلعی پولیس افسران کو بھی خواتین کو پولنگ سے دور رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

البتہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔

صوبہ سرحد کے اکثر اضلاع میں اٹھارہ اگست کو پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران عورتوں کو مقامی عمائدین کے فیصلے کے مطابق ووٹ سے دور رکھا گیا تھا۔ ان علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں ایک خاتون ووٹ بھی پول نہیں ہوا۔

پھر صرف نوشہرہ اور صوابی میں اس اقدام پر حقوق انسانی کی تنظیموں کے کارکنوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد