صوابی اور نوشہرہ میں دوبارہ پولنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ کے روز صوبہ سرحد کے نوشہرہ اور صوابی اضلاع میں سات پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم جاری کیا ہے جہاں اس کے مطابق خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اٹھارہ اگست کی پولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ہر انسان کا حق ہے اور اس سے کسی کو محروم کرنا انتخابی جرم ہے۔ جن پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا گیا ہے ان میں ضلع نوشہرہ میں جہانگیرہ یونین کونسل II کے تین خواتین پولنگ سٹیشن، پیر پیائی کے تین اور صوابی پبنی یونین کونسل کے ایک پولنگ سٹیشن پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا ہے۔ ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ الیکشن کمشنر نے نوشہرہ اور صوابی کے ضلعی پولیس افسران کو بھی خواتین کو پولنگ سے دور رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ البتہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد کے اکثر اضلاع میں اٹھارہ اگست کو پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران عورتوں کو مقامی عمائدین کے فیصلے کے مطابق ووٹ سے دور رکھا گیا تھا۔ ان علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں ایک خاتون ووٹ بھی پول نہیں ہوا۔ پھر صرف نوشہرہ اور صوابی میں اس اقدام پر حقوق انسانی کی تنظیموں کے کارکنوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||