BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 August, 2005, 07:41 GMT 12:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولنگ جاری مگر سامان غائب

سندھ میں پولنگ
متعدد پولنگ سٹیشنوں پر عملہ دیر سے پہنچا
سندھ کے بارہ اضلاع میں پولنگ جاری ہے مگر کئی پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ پیپر پر لگانے والی مہروں، انمٹ سیاہی اور ووٹر لسٹوں کی عدم دستیابی کی شکایت کی جا رہی ہیں۔

اکثر پولنگ سٹیشنوں پر عملہ وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے پولنگ دیر سے شروع کی گئی ہے اور آغاز میں پولنگ سٹیشن پر لوگوں کی زیادہ تعداد موجود نہیں تھی۔

حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، دادو، مٹیاری، جامشورو، بدین، سکھر، خیرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ، شہداد کوٹ اور شکارپور میں پولنگ جاری ہے اور ان علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج بھی گشت کر رہی ہے۔

حیدرآباد میں صبح دس بجے تک پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی روایتی قطاریں موجود نہیں تھیں لیکن دوپہر کے بعد سے لوگوں نے ووٹ لاالنے کے لیے گھروں سے نکلنا شروع کردیا تھا۔

بدین میں پولنگ مقرر وقت پر شروع کی گئی جبکہ اس وقت ووٹروں کی بہت کم تعداد موجود تھی۔امن و امان کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی رینجرز نے بدین پہنچ کر معائنہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

سکھر میں موجود بی بی سی کے نمائندے علی حسن کے مطابق شہر میں پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج بھی موجود ہے جو حساس قرار دیے گئے پولنگ سٹیشنوں کا گشت کر رہی ہے جبکہ شکارپور میں پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

پولنگ کا مکمل ساز و سامان موجود نہ ہونے کے وجہ سے کچھ مقامات پر پولنگ دیر سے شروع ہوئی۔ سکھر کی ایک یونین کونسل میں پولنگ کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب تلخ کلامی کے بعد نائب ناظم کے ایک امیدوار کو رینجرز کے جوانوں نے پولنگ سٹیشن سے باہر نکال دیا۔

خیرپور کی دو یونین کونسلوں میں فقیر دوست اور عوام دوست امیدواروں کے حمایتیوں میں تصادم ہوگیا جس وجہ سے کچھ دیر کے لیے پولنگ بند کردی گئی بعد میں ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا مگر فریقین میں کشیدگی موجود ہے۔

سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال لاڑکانہ اور شہداد کوٹ میں ہے۔ انتِخابات سے ایک روز قبل سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم، پیر پگارہ کے فرزند صوبائی وزیرصدرالدین شاہ اور کور کمانڈر نے لاڑکانہ کا دورہ کیا ہے جبکہ باقرانی کے علاقے میں بوگس ووٹنگ کی شکایت پر رینجرز اور پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

شہداد کوٹ میں چچا اور بھتیجے کے پینل میں مقابلہ ہے۔ یہاں پر ایک گروپ کے سربراہ نواب شبیر چانڈیو ہیں جو پی پی پی چھوڑ کر حکمران جماعت میں شامل ہوئے ہیں ان کے سامنے نواب شاہنواز چانڈیو ہیں جنہیں پی پی پی کی حمایت حاصل ہے۔ سخت کشیدگی کی صورتحال میں جاری پولنگ میں رینجرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

دادو میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر ایک عوام دوست امیدوار کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی جو ایک گھنٹہ بعد دوبارہ شروع ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد