BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 August, 2005, 23:09 GMT 04:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوسرا مرحلہ: پولنگ جاری ہے

انتخابات
پنجاب کے دو ہزار چھ سو سے زیادہ پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے
پاکستان میں آج پنجاب کے تین بڑے شہروں سمیت ملک کے چوّن اضلاع کی یونین کونسلوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔

پنجاب کے اٹھارہ اور سندھ، بلوچستان اور سرحد کے بارہ بارہ اضلاع میں تین ہزار ایک سو چوہتر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں جن میں سے دو سو تین ناظم اور نائب ناظم اور ایک ہزار آٹھ سو اٹھانوے خواتین امیدوار ہیں۔

سرکاری انتائج
 اٹھارہ اگست کو جن اضلاع میں پولنگ ہوئی تھی ان کے سرکاری نتائج چھ روز گزرنے کے باوجود جاری نہیں ہوئے ہیں اور الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ نتائج چھپنے کے لیے پرنٹنگ پریس بھجوا دیے گئے ہیں
جون کے آخری ہفتہ میں انتخابی شیڈول کے اعلان سے شروع ہونے والے اس انتخابی عمل کا ایک بڑا حصہ جمعرات کو پورا ہوجائے گا۔ اس کے بعد یونین کونسلوں کے منتخب ہونے والے چھ ہزار سے زیادہ ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو تحصیلوں، ٹاؤنز اور ضلعوں کے ناظموں کا انتخاب کریں گے۔

پولنگ کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے لیے پنجاب کے گیارہ، سندھ کے چار، اور بلوچستان کے تین اضلاع کو انتہائی حساس قرار دے کر پولیس کے ساتھ فوج اور نیم فوجی دستوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

گزشتہ دو دنوں میں لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور جھنگ سمیت متعدد اضلاع میں فوجی دستوں نے فلیگ مارچ کیا ہے۔

سخت حفاظتی انتظامات
سخت حفاظتی انتظامات

پنجاب کے دو ہزار چھ سو سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اب تک پنجاب میں انتخابی جھگڑوں میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ بلوچستان میں نو افراذ زخمی ہوئے۔

جمعرات کو جن تین ہزار ترپن یونین کونسلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے وہاں ایک لاکھ آٹھ ہزار دو سو ستاسی امیدوار میدان میں ہیں جبکہ تین کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹر ووٹ ڈال سکیں گے جو تقریباً چالیس ہزار ارکان کا انتخاب کریں گے۔

پنجاب میں جمعرات کو دلچسپ مقابلے تین بڑے شہروں راولپنڈی، فیصل آباد اور لاہور میں ہورہے ہیں۔

پہلے مرحلہ میں پنجاب کے جن سترہ ضلعوں میں ووٹنگ ہوئی تھی وہاں حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں لیکن شہری حدود مثلاً گوجرانوالہ، سرگودھا اور سیالکوٹ کی یونین کونسلوں میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے امیدوار اکثریت سے جیتے تھے جبکہ ملتان شہر میں بھی حزب اختلاف اور حکومتی جماعت نے برابر برابر نشستیں حاصل کی ہیں۔

جمعرات کو پنجاب کے جن بڑے شہروں میں ووٹنگ ہورہی ہے وہاں پر حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بیشتر نشستوں پر مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں اور ان شہروں کے مقامی نتائج قومی سیاست کے لیے اہمیت کے حامل ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے گجرات اور اٹک میں حکومت پر حزب اختلاف کے امیدواروں کو پولیس کے ذریعے دستبردار کروانے اور ڈرانے دھمکانے کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ لاہور میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کے رہنماوں نے بدھ کے روز مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا ہے کہ حکومت نے لاہو کے نتائج کو تبدیل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے۔

کئی مقامات پر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا جبکہ بہت سے مقامات پر ان کی قطاریں بھی نظر آئیں
کئی مقامات پر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا جبکہ بہت سے مقامات پر ان کی قطاریں بھی نظر آئیں
راولپنڈی میں پہلی بار پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے کئی نشستوں پر مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ حزب مخالف کے امیدواروں کا مقابلہ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے لال حویلی گروپ کے امیدواروں سے ہے۔

وفاقی وزیر اعجاز الحق کے امیدوار بھی شیخ رشید گروپ کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔

لاہور میں اندرون شہر کی سات نشستوں پر مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کا حکمران مسلم لیگ کے امیدواروں سے براہ راست ون ٹو ون مقابلہ ہے۔ فیصل آباد میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ حکومت کے مختلف وزراء کے حمایت یافتہ امیدوار ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔

صوبہ سرحد میں جمعرات کو جن مقامات پر پولنگ ہورہی ہے ان میں جماعت اسلامی کے روایتی گڑھ اپر اور لوئر دیر اور مالاکنڈ شامل ہیں۔

سرحد کے انتخابات میں پہلے مرحلہ میں جمعیت علمائےاسلام کو عام انتخابات کے مقابلہ میں کم پذیرائی ملی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی دوسری بڑی رکن پارٹی جماعت اسلامی اپنے روایتی مراکز میں کتنی نشستیں حاصل کرپاتی ہے۔

سندھ میں دوسرے مرحلے میں حیدرآباد کے نتائج اہم ہوں گے کیونکہ اس ضلع کو انتخابات سے پہلے چار اضلاع میں تقسیم کردیا گیا تھا اور اس کی آبادی تیس لاکھ سے کم ہوکر پندرہ لاکھ رہ گئی ہے۔

گزشتہ مقامی انتخابات (سنہ دو ہزار اور دو ہزار ایک) میں ایم کیو ایم نے مقامی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس بار یہاں ایم کیوایم اور جماعت اسلامی میں مقابلہ ہورہا ہے۔

اندرون سندھ فنکشنل لیگ اور حکمران مسلم لیگ نے وطن دوست گروپ کے نام سے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں سندھ میں حیران کن طور پر پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار اکثریت حاصل نہیں کرسکے۔

جمعرات کو سکھر اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے آبائی علاقہ لاڑکانہ میں بھی پولنگ ہورہی ہے۔ اندرون سندھ کے نتائج پیپلز پارٹی کی کارکردگی کے اعتبار سے دلچسپی کے حامل ہوں گے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکمران جماعت کے خوشحال پاکستان گروپ، ہزارہ آبادی کے ڈیموکریٹک گروپ، پختون ملی عوامی پارٹی کے وطن دوست گروپ، جمعیت علمائے اسلام کے مظلوم گروپ اور جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ کے امیدوار دوسرے چھوٹے چھوٹے گروپوں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ کوئٹہ میں متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی رکن جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔

جمعرات کو قلات میں بھی انتخابات ہورہے ہیں جہاں عبدالحئی بلوچ کی نیشنل پارٹی کے ایک دھڑے نے حکمران مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔

پنجاب میں جن اضلاع میں جمعرات کو ووٹنگ ہوگی ان میں راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، میانوالی، بھکر، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، نارووال، لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں۔

سندھ کے پولنگ والے اضلاع میں حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، دادو، مٹیاری، جامشور، بدین، سکھر، خیرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ، شہداد کوٹ اور شکارپور شامل ہیں۔

صوبہ سرحد میں ہنگو، لکی مروت، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام، کوہستان، سوات، شانگلہ، اپر دیر، لوئر دیر، چترال اور مالا کنڈ شامل ہیں۔

بلوچستان میں قلات، واشک، لسبیلہ، جھل مگسی، کوئٹہ، کوہلو، لورالائی، ژوب، موسی خیل، چاغی، کیچ اور پنجگور شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد