مہنگے ترین مقامی انتخابات؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انتخابی امیدواروں نے موٹر سائیکلوں پر ریلیاں نکالیں، ووٹرز کو کھانے کھلائے، ہوائی جہازوں سے اپنے حلقوں میں اپنے اشتہاری پوسٹرز اور سٹکرز گروائے، جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈ لگائے اور شہر رنگا رنگ بینروں سے بھر گیا۔ الیکشن کمیشن نے ان سب چیزوں پر پابندی لگائی تھی لیکن کسی خلاف ورزی پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ قانونی طور پر غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جانے والے انتخابات میں حکومتی سیاسی جماعت سمیت تمام سیاسی پارٹیوں نے کھلے عام حصہ لیا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ ضلعوں میں حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی ناظموں کے امیدواروں کا باقاعدہ اعلان کررہے ہیں۔ پاکستان کی چھ ہزار سے زیادہ یونین کونسلوں کے انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا جس میں ہر امیدوار کے لیے اپنی انتخابی مہم پر خرچ کرنے کی ایک حد مقرر کی گئی تھی اور اشتہاری بورڈز، بینرز اور پوسٹرز چھپوانے اور لگانے اور جلوس نکالنے پر پابندی عائد کی تھی۔ منگل کے روز انتخابی مہم ختم ہونے میں جب صرف چند گھنٹے باقی تھے تو میں نے اسلام پورہ (کرشن نگر) آخری بس سٹاپ میں ایک امیدوار کے دفتر میں زبردست ہجوم دیکھا۔ قریب جانے پر پتہ چلا کہ دفتر میں قورمے کی دیگیں رکھی ہیں اور علاقہ کے لوگ ماحضر تناول کررہے ہیں۔ اسلام پورہ اور ساندہ میں حریف نوجوانوں نے جگہ جگہ انتخابی جلوس نکالے ہوئے تھے۔ یہ لوگ موٹر سائیکلوں پر سوار امیدواروں کے انتخابی نشان والے جھنڈے پکڑے، نعرے لگاتے، شور مچاتے علاقہ کا گشت کر رہے تھے۔
لوئر مال پر ٹریفک جام تھی جہاں کاروں اور موٹر سائیکلوں پر کئی امیدواروں کی ریلیاں گزر رہی تھیں۔ کاروں اور ٹرکوں پر انتخابی نشانوں کے ماڈلز رکھے ہوئے تھے۔ مقامی انتخابات میں امیدوار محلوں کی گلیوں کا روایتی طور پر پیدل مارچ کرتے ہوئے گزرا کرتے تھے اور ان کے پر جوش حمایتی انکے نعرے لگاتے رہتے تھے۔ تاہم اس بار مقامی الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پر موٹر سائیکلوں، جیپوں اور کاروں کا استعمال کیا گیا۔ اخبارات میں انتخابات کے لیے کرائے کی کاروں کے اشتہار شائع ہوئے۔ بلال گنج اور موہنی روڈ کے علاقہ میں بھولو پہلوان خاندان کے امیدواروں، دربار کے مجاوروں اور بھلی بٹ کے درمیان مقابلہ ہے۔ وہاں پر سب امیدواروں کے قد آدم بل بورڈ یا ہورڈنگز لگے تھے۔ جدید ٹیکنالوجی سے انتخابی مہم کا رنگ ڈھنگ بھی سنور گیا ہے۔ اب ہاتھ کے بنے بورڈز کے بجائے جدید پرنٹنگ تکنیک سے بنے امیدواروں کی بڑی بڑی تصویروں والے خوبصورت بورڈز شہر میں جگہ جگہ آویزاں تھے۔ بلال گنج کے امیدوار سیاسی رہنما سے زیادہ پنجابی فلموں کے فلمی ہیرو دکھائی دیے۔
گرین ٹاؤن اور جنرل ہسپتال کے پاس کے علاقہ میں لوگوں نے بتایا کہ امیدواروں نے یہاں ہوائی جہازوں سے اپنے پمفلٹ، پوسٹرز اور سٹکرز علاقہ میں پھنکوائے۔ شہر میں کئی جگہوں پر امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا۔ شہر میں کئی علاقوں میں ناظم کی نشست کے لیے ووٹوں کی خرید و فروخت کی باتیں سنی جاسکتی ہیں۔ یونین کونسل کے ناظم کی نشست کے لیے ایک ووٹ کی قیمت دو سو روپے سے ایک ہزار روپے تک بتائی جاتی ہے۔ کئی حلقوں میں جہاں بہت کم ووٹوں کے فرق سے ہار جیت کا فیصلہ ہوگا وہاں یہ خرید و فروخت اہم کردار ادا کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے یونین کونسل کے امیدواروں کےلیے فی کس پچاس ہزار روپے خرچ کی حد مقرر کی تھی لیکن عام اندازہ ہے کہ ناظموں اورنائب ناظموں کے امیدواروں نے اپنی مہم پر تین لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک خرچ کیے ہیں۔ اب تک جتنے مقامی انتخابات ہوئے ہیں ان میں موجودہ انتخابات کو مہنگے ترین الیکشن کہا جاسکتا ہے جن میں پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||