BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 August, 2005, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد: 22 ہلاک، 150 زخمی

فوج
انتخابات کے موقع پر فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے
مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ملک بھر میں انتخابی تشدد کےمختلف واقعات میں بائیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

کئی جگہوں پر تصادم کے بعد پولنگ روک دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نےدرجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران سولہ ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لاہور کے نزدیکی گاؤں مراکہ میں انتخابی فریقین کی لڑائی میں دو لوگ ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص کاہنہ کے علاقے میں مارا گیا ہے۔

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں تشدد کے واقعات میں تین افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مریدکے میں دو جبکہ جھنگ، جہلم، اوکاڑہ، نارووال، اٹک اور راولپنڈی میں ایک، ایک شخص کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

صرف صوبہ پنجاب میں انتخابی تشدد کے متعدد واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں اور گجرات سمیت متعدد مقامات سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے نواحی علاقے ٹنڈو جام میں عوام دوست اور حکومتی حمایت یافتہ مگسی گروپ کے حمایتیوں میں تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ میں امیدواروں کے حمایتیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں عوام دوست گروپ کا ایک حامی مارا گیا جبکہ اس جھگڑے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

خیرپور کی سابقہ ضلعی ناظمہ نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’ ہمارا حمایتی ہلاک ہوا ہے اور پولیس نے ہمارے ہی لوگوں کوگرفتار کر لیا ہے‘۔

خیرپور ضلع کے ہی کوٹ ڈیجی کے علاقے میں پی پی اور حکومت کے حامیوں کے درمیاں جھگڑے میں سترہ افراد زخمی ہوگئے۔ یونین کونسل محبت واہ اور فقیر جلالانی میں جھگڑے کے نتیجے میں میں کچھ دیر کے لیے پولنگ معطل رہی۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

لاڑکانہ کے قصبے عاقل میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گاد قبیلے کے لوگ ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشن پر آرہے تھے تو رستے میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ مرنے والے افراد کا تعلق گاد قبیلے سے ہے۔ یاد رہے کہ علاقے میں گزشتہ کافی عرصے سے کھڑا اور گاد قبائل میں تنازع چل رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد فوج نے علاقے کو گھیر لیا ہے۔

نوابشاہ شہر میں پولنگ اسٹیشن پر تصادم کے بعد رینجرز نے ایم پی اے طارق مسعود آرائیں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ دادو میں انتخابات میں مداخلت کے الزام میں ڈی پی او تفتیش ٹیپو سلطان کو رینجرز نےحراست میں لے لیا ہے۔ٹیپو سلطان نےاپنی نظر بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان پر عوام دوست گروپ نے وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

سکھر میں بیلٹ پیپر پر ایک امیدوار کا انتخابی نشان نہ ہونے پر اس کے حامیوں نے پولنگ عملے کو یرغمال بنا لیا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر توڑ پھوڑ کی۔ رینجرز اور پولیس نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور دس افراد کو گرفتار کر لیا۔

ہالہ میں گرلز اسکول میں عورتوں کے ایک پولنگ سٹیشن پر تصادم ہوگیا جس میں چھ سے زائد لوگ زخمی ہوگئے۔ ٹنڈو محمد خان میں کشیدگی کے بعد سبھاگو فقیر پولنگ اسٹیشن پر پولنگ بند کردی گئی جبکہ بلڑی شاہ کریم میں تصادم میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔

صوبہ سرحد کے علاقے کوہستان میں انتخابی تشدد کے واقعات میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جھل مگسی میں پولنگ کے بعد نامعلوم افراد اور نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور ایک اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ژوب میں کلی شیخان کے علاقے میں دو مخالف گروہوں میں جھڑپ سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ شہر کے مختلف حلقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں مجموعی طور پر انیس افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد