پنجاب میں بھی انتخابات مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب میں حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان نتائج کو کالعدم قرار دیکر ایک آزاد الیکشن کمشن کے زیر اہتمام دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ یہ مطالبہ لاہور میں مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار کھوسہ، تحریک انصاف پنجاب کے صدر ایڈمرل(ر)جاوید اقبال، مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ، پیپلز پارٹی کے صوبائی سکریٹری اطلاعات نوید چودھری ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاریخ دھاندلی ہوئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی حکومت کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی صدر، وزیراعظم اور وزارئے اعلی سے لے کر ہر سطح کے حکومتی عہدیدار دھونس دھاندلی الیکشن مہم چلاتے رہے اور دھونس دھاندلی کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ اگلے مہینے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں جس میں الیکشن دھاندلی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ادھر پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر قاسم ضیاء نے گجرات کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کلب میں ایک اخباری پریس کانفرنس میں گجرات ضلع میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ حکمران جماعت کے ایک عہدیدار کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں پولنگ کے روز تشدد کے واقعات میں زخمی ہونے والے چند افراد بھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کے فخر مشتاق پگانوالہ اور سابق وفاقی وزیر احمد مختار نے کہا کہ ان کے بار بار کے مطالبے کے باوجود گجرات کو حساس علاقہ قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گجرات میں الیکشن دھاندلی کی لاہور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل پینل سے تحقیقات کرائی جائیں اور اس شہر کو حساس علاقہ قرار دیکر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||