BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 August, 2005, 00:22 GMT 05:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوسرے مرحلے کےابتدائی نتائج

ووٹر
بیشتر اضلاع میں حکومت حامی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں
بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق لاڑکانہ سمیت سندھ کے بارہ ضلعوں میں سے حیدرآباد، خیرپور، لاڑکانہ، قمبر، شکارپور، سکھر اور دادو میں حکومت کے حامی امیدواروں کو برتری حاصل ہے جہاں اکثریت حاصل کرنے والے گروپ ہی ضلع حکومت بنائیں گے۔

ضلع لاڑکانہ کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں تاہم ضلع کے دو تحصیلوں باقرانی اور ڈوکری میں حکومت کے حامی خوشحال پاکستان کو برتری حاصل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے گڑھ لاڑکانہ میں ضلع حکومت نہیں بنا پائےگی۔ تاہم آصف زرداری کے آبائی ضلع نواب شاہ، جامشورو، اور مٹیاری میں پی پی پی کے حامی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے گڑھ لاڑکانہ میں ضلع حکومت نہیں بنا پائےگی، تاہم آصف زرداری کے آبائی ضلع نواب شاہ، جامشورو، اور مٹیاری میں پی پی پی کے حامی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔

قبائلی جھگڑوں اور جرگوں کے حوالے سے مشہور ضلع شکارپور میں حکومت کے حامی مختلف پینلز کے انتالیس اور عوام دوست کے گیارہ امیدوار کامیاب ہوئے۔شکارپور میں کُل پچاس یونین کونسل ہیں۔ جن میں سے دو پر حکومت کے حامی پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

دادو ضلع کی کوکھ سے جنم لینے والے نئے ضلع جامشورو میں کُل اٹھائیس یونین کونسلز میں حکومتی اتحاد کا ایک اور پی پی کے عوام دوست پینل کے سولہ امیدوار کامیاب قرار دیئے گئے ہیں۔

ساحلی ضلع بدین میں حکمراں پینل کے بائیس اور پی پی کے عوام دوست پینل کے چھ، فقیر دوست پینل کے چھ، برادریوں پر مشتمل راجونی اتحاد کے تین اور آزاد چار کامیاب ہوئے ہیں۔ یہاں یونین کونسل کی تعداد چھیالیس ہے ان میں چار پر حکومت کے حامی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

 سکھر کی چھیالیس یونین کونسلز میں سے حکومت کے اتحاد نے تئیس، اور عوام دوستوں نے سولہ، ایم کیو ایم نے چھ یونین کونسلز پر کامیابی حاصل کی ہے۔

سکھر کی چھیالیس یونین کونسلز میں سے حکومت کے اتحاد نے تئیس، اور عوام دوستوں نے سولہ، ایم کیو ایم نے چھ یونین کونسلز پر کامیابی حاصل کی ہے۔ سکھر کی چھیالیس یونین کونسلز میں سے چار پر بلامقابلہ امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں۔

آصف زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ میں عوام دوست پینل نے چھبیس، حکمراں اتحاد نے پانچ، عوام دوست پینل نے پندرہ، اور ایم کیو ایم کے پینل نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ نوابشاہ میں کُل اکیاون یونین کونسل ہیں جن میں سے دو پر حکمران اتحاد کے امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہ 0و چکے ہیں۔
لاڑکانہ کو دو حصوں میں بانٹ کر بنائے گئے ضلع قمبر میں حکومتی اتحاد نےگیارہ، پی پی کے عوام دوست نے پانچ نشستیں حاصل کی ہیں۔ تین تعلقوں میں حکومت کے حامی امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ قمبر میں کل چالیس یونین کونسلز ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق لاڑکانہ میں حکومتی اتحاد نے سات اور عوام دوست نے دو نشستیں حاصل کی ہیں۔ کل یونین کونسل کی تعداد چوالیس ہے۔
ٹنڈو محمد خان کی کُل سولہ یونین کونسلز میں سے سات پر خوشحال پاکستان، چار پر سادات گروپ تین پر عوام دوست اور ایک پر فقیر دوست نے کامیابی حاصل کی ہے۔

مخدوم امین فہیم کے ضلع مٹیاری کی کل انیس یونین کونسلز میں سے آٹھ پر عوام دوست اور آٹھ پر حکومت کے حامی امیدوار کامیاب ہوئی ہے۔ ایک پر سرکاری امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکا ہے۔

دادو کل باون میں سے حکومت اور مقامی بااثر کاگروپ دادو اتحاد اٹھائیس، اور عوام دوست نے پانچ یونین کونسلیں جیتی ہیں۔

حیدرآباد باون یونین کونسلز میں سے اٹھاون ایم کیو ایم، آٹھ عوام دوست، چار خوشحال پاکستان، اور چار ایم کیو ایم اور خوشحال پاکستان نے مشترکہ طور پر جیتی ہیں۔

 پیپلز پارٹی سندھ کے صدر قائم علی شاہ کے آبائی ضلع خیرپور چھہترمیں سے چھ یونین کونسلز پیر پاگارا کے حامی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ حکمراں اتحاد کا گروپ خیرپور دوست انچاس اور پی پی کا حامی عوام دوست بیس، آزاد تین امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ چار یونین کونسل گ 8ا نتیجہ آنا باقی ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر قائم علی شاہ کے آبائی ضلع خیرپور چھہترمیں سے چھ یونین کونسلز پیر پاگارا کے حامی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ حکمراں اتحاد کا گروپ خیرپور دوست انچاس اور پی پی کا حامی عوام دوست بیس، آزاد تین امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ چار یونین کونسل گ 8ا نتیجہ آنا باقی ہے۔
66پی پی کا گڑھ کیا ہوا؟
مقامی انتخابات، سندھ کا سیاسی نقشہ ہی بدل دیا
66’میں نے کیا دیکھا‘
بیلٹ باکس بھرے جانے کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد