’میں نے کیا کیا دیکھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب سے پہلے تک یہ سنا ہی تھا کہ جعلی ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالے جاتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ آنکھوں سے دیکھنے کا اتفاق پاکستانی پنجاب کے شہر گجرات میں ہوا۔ پولنگ کے روز گجرات شہر میں داخل ہوتے ہی مجھے جو پہلی چیز نظر آئی تھی وہ ڈیڑھ درجن کے قریب گاڑیوں کا ایک بیڑا تھا جس میں ایلیٹ فورس اور پولیس کی چھ گاڑیوں میں سوار مسلح اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں’مسلح گن مین‘ تھے جن کی رائفلیں اور بندوقیں صاف نظر آرہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ قافلہ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کے بھائی چودھری وجاہت حسین کا ہے۔ میں عزیز بھٹی ہسپتال میں پہنچا جہاں پیلزپارٹی کے رہنما اور ناظم کے امیدوار فخر مشتاق پگانوالہ زخمی حالت میں موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ ’میں اپنے اوپر ہونے والی فائرنگ کا مقدمہ درج نہیں کراؤں گا اور خود چودھری وجاہت سے انتقام لوں گا‘۔ ابھی میں ان سے انتقام کی نوعیت پوچھنے والا تھا کہ ہسپتال میں شور مچ گیا کہ کامرس کالج میں فائرنگ ہوگئی اور جب میں یہاں پہنچا تو دیکھا کہ چار پانچ نوجوان لڑکیاں اور ایک ادھیڑ عمر خاتون لوگوں کے ہجوم کے درمیان دھول اڑاتی سڑک پر بھاگ رہی تھیں۔
میں نے بمشکل انہیں روکا اور پوچھا کہ کیا ہوا تو انہوں نے نے پھولی ہوئی سانسوں میں چند ادھورے جملے بولے جو کچھ یوں تھے۔’وہ غنڈے تھے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے فائرنگ کی ۔۔۔۔۔کمرے داخل ہوکر انہوں نے اندر سے کنڈی لگا لی تھی ۔۔۔۔میں نے خود سنا وہ فون پر اپنے غنڈوں کو بلا رہے تھے۔۔۔۔۔ میں نے کمرے میں خود کو بند کر کے جان بچائی ہے۔۔۔۔ یہ وزیرِاعلٰی کا شہر ہے۔ مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں ؟ ان سے پوچھیں یہ کیا ہو رہاہے؟‘ اسی دوران ایک شخص ان عورتوں کو ڈانٹنے لگا کہ وہ انٹرویو کیوں دے رہی ہیں۔ بھاگنے والے کئی لوگوں نے بتایا کہ یہاں فائرنگ ہوئی ہے۔ کالج کے اندر پہنچا تو احاطے میں سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیاں کھڑی تھیں ایک پر لکھا تھا یوتھ کونسل مسلم لیگ۔ وہاں کھڑے لوگوں نے ایک شخص کو جس کے سینے پر ہاکی کے نشان کا سٹیکر لگا تھا، تھپڑ مارا اور بھاگ جانے کو کہا اور جب میں نے پوچھا کہ یہاں کیا ہوا ہے تو سب نے بیک زبان ہوکر کہا کہ کچھ نہیں ہوا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا یہاں پر فائرنگ ہوئی ہے تو کئی لوگوں نے بیک آواز ہوکر جواب دیا کہ نہیں۔ سو ڈیڑھ سو افراد کا یہ مجمع جن کے سینوں پر شجاعت گروپ اور چاند کے نشان کے سٹیکر لگے تھے میرے گرد اکٹھے ہوگئے۔ پھر ایک صاحب نے اپنےگرد کھڑے مجمع کی طرف منہ کر کے کہا کہ’ بتاؤ کوئی فائرنگ ہوئی ہے‘ تو کورس میں سب نے جواب دیا نہیں۔ میں ان کے آپس کے اتفاق اور یکجہتی کے مظاہرے سے بہت متاثر ہوا حالانکہ میں نے ان کے قدموں میں پڑے گولیوں کے خالی خول دیکھ لیے تھے۔
اس سوال کے جواب میں کہ پھر یہاں ہوا کیاہے؟ انہوں نے مخالف امیدوار کے دھاندلی اور بدمعاشی کے شکوے شروع کر دیے لیکن کسی کے پاس میرے دو بار دہرائے اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی بات کرتے ہوئے مسکرا کیوں رہے ہیں؟ میں عمارت کے اندر چلا گیا ساتھ ہی ساتھ پورا مجمع پولنگ سٹیشن میں داخل ہوا لیکن پھر ان کے قائد نے بیشتر کوباہر نکال دیا۔ ایک کمرے میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بیلٹ پیپر کی کاپیاں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔ایک صاحب تیزی سے مہریں لگا لگا کر کاپیاں دوسرے کے حوالے کر رہے تھے اور وہ پھاڑ پھاڑ کر تیسرے کو دے رہے تھے جو انہیں بیلٹ باکس میں ٹھونس رہے تھے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شاید یہ سرکاری اہلکار ہیں لیکن جب دیکھا کہ مہریں لگانے والے صاحب نے چاند کے نشان کا سٹیکر سینے پر تمغے کی طرح لگا رکھا ہے تو میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ کون ہیں؟ جواب ملا کہ ’پولنگ ایجنٹ ہوں‘ ۔ میں نے کہا کہ یہ لوگ جو ایک ایک بار میں درجن درجن ووٹ اس باریک سے سوراخ میں سے بیلٹ باکس میں ڈال رہے ہیں کون ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اپنے پارٹی ورکر ہیں۔ اسی دوران وہی صاحب، جنہوں نے ایک آواز میں سینکڑوں گواہی دلوانے کا کرتب دکھایا تھا داخل ہوئے۔ ان کی شکل سے ہی لگا کہ اس بار کوئی نیا کرتب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں چھوڑیں ۔۔۔وہ ساتھ والے کمرے میں ہاکی والے جعلی ووٹ ڈال رہے ہیں۔ میں نےان کی بات سنی ان سنی کر دی کہ میں دیکھ چکا تھا کہ اس بلڈنگ کے احاطے میں کوئی ہاکی کے نشان والا داخل ہو ہی نہیں سکتا جو آیا تھا وہ میرے سامنے مار کھا کر چلا گیا تھا۔ میں دوسرے کمرے میں گھسا اور پھر وہی منظر دیکھا کہ چاند کے نشان والے ووٹ باکس میں ڈالے جارہے ہیں۔ وہ، کمال فن کے حامل، صاحب پھر آئے۔ ناراض تھے کہ میں انکے بتائے ملزم کو کیوں نہیں دیکھنے جا رہا۔ وہ مجھے بازو سے پکڑ کر تیسرے کمرے میں لے گئے جہاں ایک شخص نے انہیں دیکھتے ہی ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ہاکی کے نشان پر مہریں لگانا شروع کر دیں۔ اس مسکراہٹ کے جواب میں ان صاحب نے غصہ دکھایا اور اسے پکڑ کر زوردار تھپڑ جڑ دیا، ایک گالی دی اور ان کے ساتھی غصے میں اسے پکڑ کر باہر لے گئے اور مجھے یقین دلایا کہ وہ اسے پولیس کے حوالے کرنے جارہے ہیں۔کچھ دیر بعد میں نے باہر دیکھا تو وہ نام نہاد ملزم چاند کے سٹیکر والوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں نے پولنگ کے عملے کی تلاش شروع کی تو تمام ایک کمرے کے کونے میں سہمے بیٹھے دکھائی دیے۔ پریذائڈنگ افسر خاصے مایوس لگے اور کہنے لگے کہ کچھ بھی ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ لوگ خود پرچیاں بیلٹ باکس میں بھر رہے ہیں اور ان کے کہنے پر تو پولیس بھی نہیں آئی۔ میں انہیں کیا بتاتا کہ پولیس کی بھاری نفری تو دروازے کے باہر موجود ہے۔ جب میں نے باہر نکل کر تھانہ سول لائن کے ایڈیشنل ایس ایچ او سے پوچھا کہ آپ پولنگ شروع کرانے کے اقدامات کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ’ پولنگ تو ہو رہی ہے‘۔ مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے یونین کونسل ترپن سے ناظم کے امیدوار ناصر محمود اپنے حامیوں کے ساتھ پولنگ سٹیشن کے باہر کھڑے تھے اور اندر آنے کو تیار نہ تھے اور آتے بھی کیوں؟ ان کے بقول ان کے نائب ناظم کے امیدوار کو سینکڑوں افراد اور پولیس اہلکاروں کے سامنے تشدد کے بعداغوا کر لیا گیاہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے بار بار کہنے کے باوجود اس پولنگ سٹیشن پر فوج تعینات نہیں کی گئی انہوں نے مطالبہ کیاکہ اس پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کروائی جائے۔ انہوں نے اس بارے میں ایک درخواست بھی ریٹرنگ افسرکو لکھ کر دے دی۔ معلوم ہوا ہے کہ سرکاری عملے نے بعد میں لکھ کر دیا کہ یہاں پر پولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ چودھری شفاعت حسین سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انتخابات میں چھوٹی موٹی لڑائیاں تو ہو ہی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات ان کا آبائی شہر ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے لوگ جان بوجھ کر جھگڑا کر رہے ہیں تاکہ ذرائع ابلاغ میں انہیں بدنام کیا جا سکے۔ میں اپنی گاڑی ظہور پیلس کے احاطے میں ہی کھڑی کر کے اسے عین سامنے واقع ایک ریستوران میں بیٹھا یہ سطریں ٹائپ کر رہا ہوں تو میرے سامنے چودھری وجاہت حسین اور ان کے بھائی شفاعت حسین کا گاڑیوں کا قافلہ ظہور پیلس میں داخل ہوا ہے۔ ان کے پیچھے پیچھے ضلعی پولیس افسر کی گاڑی بھی پہنچ گئی ہے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعدگجرات کے ضلعی پولیس افسر نجانے کیا معاملہ زیر بحث لانے کے آئے ہیں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||