BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 August, 2005, 17:37 GMT 22:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھاندلی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں‘

چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر
ان کا کہنا تھا کہ کہ کراچی میں پہلی مرتبہ پرامن انتخابات ہوئے ہیں
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنرجسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزام عائد کرنے والے کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔

پیر کو کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلےمیں امن امان کی صورتحال پر سندھ حکومت اور رینجرز کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

جسٹس عبدالحمید ڈوگر نےاجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ وہ مکمل باختیار ہیں اورانتخابات کا پہلا مرحلہ خیر خوبی سے مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ صرف گجرانوالہ میں ایک قتل ہوا ہے جبکہ باقی تمام واقعات الیکشن کے دوران نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ کراچی میں پہلی مرتبہ پرامن انتخابات ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں تمام افراد تعریف کے مستحق ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کےالزامات کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی کے پاس کوئی بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ ہر ایک امیدوار کےایجنٹ کو نتائج دیے گئے ہیں۔ وہی نتائج رٹرننگ افسر کو بھی دیے گئے۔

بلدیاتی انتخابات
 جسٹس عبدلحمید ڈوگر نے بتایا کہ انہوں نے کراچی کےکئی پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کیے اور ووٹروں اور عملے سے صورت حال کے بارے میں دریافت کیا مگر کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔
جسٹس عبدلحمید ڈوگر نے بتایا کہ انہوں نے کراچی کے کئی پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کیے اور ووٹروں اور عملے سے صورت حال کے بارے میں دریافت کیا مگر کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نتائج میں کوئی دیر نہیں ہوئی اس کے لیے بیس تاریخ مقرر کی گئی تھی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا گیا۔

خواتین امیدواروں کو انتخابات سے روکنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور انہوں نے ہدایت جاری کردی ہے کہ خواتین کو روکنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بااختیار ادارہ ہے اور انتخابات میں وزراء اور اراکین قومی اسمبلی کو دیےگئے پروٹوکول واپس لے لیے گئے تھے۔

اپوزیشن کی اکثریت والی تیرہ یونین کونسل میں نئے سرے سےانتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جن یونین کونسلوں میں
گڑ بڑ ہوئی ہے وہاں پھر سے انتخابات ہو رہے ہیں۔

انتخابات کے دن صدر ٹاؤن میں دھاندلی میں ملوث پریزائڈنگ افسران کی ضمانت پر رہائی سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی ضمانت مسترد کر دی جائےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد