’دھاندلی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنرجسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزام عائد کرنے والے کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔ پیر کو کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلےمیں امن امان کی صورتحال پر سندھ حکومت اور رینجرز کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نےاجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ صرف گجرانوالہ میں ایک قتل ہوا ہے جبکہ باقی تمام واقعات الیکشن کے دوران نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ کراچی میں پہلی مرتبہ پرامن انتخابات ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں تمام افراد تعریف کے مستحق ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کےالزامات کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی کے پاس کوئی بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ ہر ایک امیدوار کےایجنٹ کو نتائج دیے گئے ہیں۔ وہی نتائج رٹرننگ افسر کو بھی دیے گئے۔
ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نتائج میں کوئی دیر نہیں ہوئی اس کے لیے بیس تاریخ مقرر کی گئی تھی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا گیا۔ خواتین امیدواروں کو انتخابات سے روکنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور انہوں نے ہدایت جاری کردی ہے کہ خواتین کو روکنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بااختیار ادارہ ہے اور انتخابات میں وزراء اور اراکین قومی اسمبلی کو دیےگئے پروٹوکول واپس لے لیے گئے تھے۔ اپوزیشن کی اکثریت والی تیرہ یونین کونسل میں نئے سرے سےانتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جن یونین کونسلوں میں انتخابات کے دن صدر ٹاؤن میں دھاندلی میں ملوث پریزائڈنگ افسران کی ضمانت پر رہائی سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی ضمانت مسترد کر دی جائےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||