سندھ: پیپلز پارٹی کا گڑھ کیا ہوا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کل ہی کی تو بات ہے کہ سندھ پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا لیکن حالیہ بلدیاتی انتخابات نے بظاہر صوبے کے اندر نقشہ ہی بدل دیا۔ اب تک کے نتائج کے مطابق پارٹی بمشکل تین اضلاع میں حکومت بنا پائے گی۔ پیپلزپارٹی نے سنہ دو ہزار ایک کے بلدیاتی انتخابات میں دس اضلاع میں اکثریت حاصل کر کے ضلعی حکومت بنالی تھی اور اپنے ناظم منتخب کرا لیے تھے اور دو ہزار دو کے عام انتخابات میں اصولی طور پر صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی تھی لیکن دو سال میں صورتحال کیسے تبدیل ہوگئی۔ یہ سوال اکثر تجزیہ نگاروں کے ذہنوں میں اٹھ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں اتنی بڑی ناکامی کیسےلکھ دی گئی ہے۔ پارٹی سنہ 1996 سے اقتدار سے اور اس کی قیادت 1998 سے ملک سے باہر ہے۔اس عرصے میں تقریبا دو حکومتیں آئیں۔ اس عرصے میں پی پی نہ توحکومت میں آسکی اور نہ ہی کوئی تحریک چلا سکی۔ اسی طرح سے عوام کی مدد اور انہیں ریلیف دلانے کے لیے حکومت پر دباؤ بھی نہ ڈال سکی۔ یہ دو چیزیں عام لوگوں میں پارٹی کی پہچان رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ووٹر اور اس کے اسمبلی ممبران زرعی پانی سے لیکر مختلف سرکاری سہولیات جو عام آدمی کا حق ہونے کے باوجود رعایت کے طور پر ملتی ہیں، ان سے محروم رہے۔ انتخابات سے قبل خیرپور، نوابشاہ، میرپورخاص، سانگھڑ، دادو اور دیگر زیریں علاقوں میں ایک سو سے زائد پانی کی چوری کے مقدمات درج کئے گئے، خیرپور کی سابق ضلع ناظم نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ اس کا شکار پیپلز پارٹی اور اس کے حامی ہی ہوئے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد کئی درجن پولیس اور ریونیو افسران کے تبادلے کیے گئے جس کے لیے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کے لوگوں نے اپنے پسند کے افسران اپنے اپنے علاقوں میں تعینات کرائے تاکہ انہیں ووٹ حاصل کرنےمیں سہولت ہو سکے۔ بعض مبصرین کے مطابق پی پی کو خود پی پی نے ہی ہروایا ہے۔ کئی ایک مقامات پر انتخابی عمل کے ساتھ ہی پارٹی کے گروپوں نے ایک دوسرے کے آمنے سامنے امیدوار کھڑے کر دیے۔ میرپورخاص میں رکن اسمبلی سید قربان علی شاہ نے پارٹی کے نامزد امیدواروں کےمقابل امیدوار کھڑے کیےاور بعد میں انتخابات کے فوراً بعد مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ٹنڈوالہ یار میں سید گروپ جو ایک عرصے سے پارٹی سے وابستہ رہا ہے، اس نےاپنے امیدوار الگ کھڑے کیے۔ بدین میں پارٹی کی خواتین ونگ کی صدر توقیر فاطمہ پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں ناظم کی امیدوار ہوگئیں۔ ہالہ میں پیپلز پارٹی کے مخدوم فضل حسین نے پارٹی کے پینل کے سامنے اپنا پینل کھڑا کر دیا جس سے پارٹی کی پارلیمانی ونگ کے سربراہ مخدوم امین فہیم بڑی مشکل میں پڑ گئے اور صورتحال یہ بنی کہ مخدوم امین فہیم جنہوں عام انتخابات میں اپنی نشست کے لیے بھی مہم نہیں چلائی تھی انہیں ہالہ میں اپنے تمام بھائیوں کے ساتھ مسلسل قیام کرنا پڑا۔ لاڑکانہ میں نوڈیرو کے علاقے میں پارٹی کے پرانے کارکنوں نے مقامی گروپوں کے ساتھ مل کر پارٹی پینل کے خلاف الیکشن لڑا۔ سکھر میں سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ اور حال ہی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے اسلام الدین شیخ کے درمیان شدید تنازع چلتا رہا جسے الیکشن سے دو ہفتے پہلے پارٹی قیادت کی مداخلت پر حل کیا گیا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود پارٹی کی سندھ میں موجود قیادت ان اختلافات کو دور نہ کر سکی۔ دوسری جانب وزیرِاعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سندھ کے تمام اضلاع اور علاقوں کا مسلسل دورہ کر کے پی پی مخالف تمام گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں لگے رہے۔ اس کام کے لیے لالچ اور دھونس دونوں کا استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ بھر میں اگرچہ پی پی نہیں جیتی مگر مختلف مقامات پر جیتنے والے مقامی گروہ ہیں جن کو صرف ایک جگہ جمع کیا گیا تھا۔ایک بڑی وجہ پیپلز پارٹی بمقابلہ پیپلز پارٹی کےساتھ ساتھ نئے اضلاع اور نئے تعلقوں اور یونین کونسلوں کی تشکیل کے علاوہ ان کی حدود میں رد وبدل کرنا شامل ہے۔ گزشتہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں ٹھٹہ اور تھرپارکر میں بڑا مقابلہ ہوا تھا لیکن عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں کے خلاف مقدمات قائم ہونے اور ان کو ہراساں کرنے کےبعد پارٹی کی طرف سے کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ یہاں تک کہ جب ارباب غلام رحیم نے قومی اسیمبلی کی نشست خالی کی تو پیپلز پارٹی نے ایک معاہدے کے تحت اپنا امیدوار ارباب عبداللہ کے مقابلے میں ہٹا دیا تھا اور وہ بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔ ان دونوں باتوں نے تھرپارکر کے کارکنوں کو مایوس کیا۔ اس کے علاوہ انتخابات سے پہلے تھرپارکر میں کامریڈ جام ساقی، ارباب مرادعلی، اور دیگر بعض سرگرم اور پرانے لوگوں کی گرفتاری نے کارکنوں کو مزید خاموش کردیا۔ تھر کے لوگ ابھی تک یہ بات نہیں بھول پائے ہیں کہ کس طرح سے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے تھر کے اندر مقامی قیادت کو ابھرنے نہیں دیا اور اربابوں کو ہی پروموٹ کیا۔ یوں لوگوں کو بے بس اور بے یار و مددگار ہوگئے جن کے پاس کوئی راہ نہیں بن رہی تھی۔ لیکن جہاں جہاں طاقت کا توازن بہتر تھا وہاں یہ صورتحال نہیں تھی۔ جیکب آباد اور کشمور دو ایسے اضلاع ہیں جہاں پر پیپلز پارٹی باقاعدہ مقابلہ کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہاں کا قبائلی نظام بتایا جاتا ہے جہاں حکومت کو مداخلت کرنے کا اتنا موقع ہی نہیں ملا اور حکومت کو ہراساں کرنے کے لیے اس طرح سے فری ہینڈ نہیں ملا۔ نتیجے میں حکمران اتحاد کے امیدواروں کو مقابلہ کرنا پڑا اور معاملہ ففٹی ففٹی رہا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ بارہ سے بیس فی صد تھا۔ پولنگ تک نہ آنے والے کون لوگ تھے وہ کس کے ووٹر تھے؟ اگر یہی بات مان لی جائے تو آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا پیپلز پارٹی کے ووٹروں نے پولنگ تک آنا گوارا نہیں کیا؟ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ پی پی کے لوگ ووٹ دینے کے لیے نہیں نکلے تو آخر وہ کیوں موبلائز نہ ہو سکے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||