ناظمین پر ایم ایم اے میں اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سمیت کئی اضلاع کے ناظمین کے انتخاب کے سلسلے میں مقتدر اتحاد متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں بلدیاتی انتخابات نے ایک مرتبہ پھر حلیف جماعتوں کو حریف اور حریف کو حلیف بنا دیا ہے۔ سیاست کی اس بساط پر آج یہاں لوگوں کو ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کی کلیدی نظامت کے لیے دو بڑے دھڑے سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک دھڑے میں جماعت اسلامی جبکہ دوسرے میں جمیعت علما اسلام فضل الرحمان گروپ پیش پیش ہیں۔ جماعت اسلامی نے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ اتحاد جبکہ جے یو آئی نے پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پارلیمنٹرین کا ہاتھ تھاما ہے۔ اس تمام صورتحال میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیراعلی اکرم خان درانی متنازعہ بن گئے ہیں اور جے یو آئی کے امیدوار حاجی غلام علی کی حمایت کے لیے ان کی نومنتخب ناظمین اور کونسلروں سے ملاقاتیں جماعت اسلامی کو ایک نظر نہیں بھا رہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی ان پر مسلسل جے یو آئی کے امیدوار کے لیے مہم چلانے کا الزام لگا رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وزیر اعلی ایم ایم اے کے نمائندے ہیں ناکہ جمعمیت علما اسلام کے۔ لہذا وہ جے یو آئی کے امیدوار کی حمایت بند کر دیں۔ تاہم جے یو آئی ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں آزاد حثیت میں منتخب ہونے والے پشاور کے تقریبا تین سو سے زائد ناظمین اور کونسلروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ فریقین ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے منت سماجت کے علاوہ جرگوں کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ دیگر اضلاع میں بھی سیاسی اتحادوں کا تقریباً پشاور جیسا ہی رنگ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خیال ہے کہ پشاور میں بنے والے سیاسی اتحادوں کی یہی شکل و صورت دیگر اضلاع میں بھی نظر آسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||