BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 August, 2005, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبہ سرحد: خواتین ووٹر غائب

جماعتِ اسلامی مظاہرہ کراچی فائل فوٹو
صوبہ سرحد میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے دینے کے خلاف جماعت اسلامی ہی کی خواتین نے کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا
صوبہ سرحد کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی عورتوں کا ووٹ ڈالنے کے لیے نہ آنے کا مسئلہ برقرار رہا۔ کئی علاقوں میں خواتین ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔

بلدیاتی انتخابات کے سلسلے کی گہما گہمی جو پہلے مرحلے میں دیکھی گئی تھی وہی جمعرات کو دوسرے مرحلے کے دوران بھی نظر آئی۔ ضلع دیر پائاں کے ہر مردانہ پولنگ سٹیشن کے باہر امیدواروں کے حامیوں کا رش اور شور شرابا۔ لیکن یہ تمام سرگرمیاں مردانہ پولنگ سٹیشن تک ہی محدود رہیں۔

خواتین کے اکثر پولنگ سٹیشنوں کو تلاش کرنا ہی انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ جس سے دریافت کیا کہ عورتوں کا پولنگ بوتھ کدھر ہے تو وہ سوچ میں پڑ گیا اور پھر کہا ’ووٹنگ ہی نہیں ہو رہی تو پولنگ سٹیشن کہاں ہونگے‘۔

آخر کئی افراد سے پوچھ کر پولنگ سٹیشن پہنچے تو زنانہ پولنگ سٹاف مہریں لگانے کی بجائے بچوں کو گود میں کھِلا رہا تھا۔

ان میں بلامبٹ کے ایک پولنگ سٹیشن کا زنانہ سٹاف بھی شامل تھا۔ میں ایسے ہی ایک پولنگ سٹیشن کی پریذائڈنگ افسر سے صورتحال معلوم کرنی چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے مرحلے میں بھی دو بجے تک انتظار کے بعد گھروں کو چلی گئی تھیں۔ اس مرتبہ بھی انہیں صورتحال کوئی زیادہ مختلف دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے تو پولنگ کا سامان کھولنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔

بعد میں معلوم ہوا کہ عورتوں کا پولنگ سٹیشن پا لینا مشکل تھا۔ سٹاف سے بات کرنے کی اجازت لینا اس سے بڑی مشکل ثابت ہوا۔

میاں کلی میں سٹیشن کے باہر بیٹھی آدھی درجن پولیس اہلکار اتنی خوفزدہ تھیں کہ انہوں نے کہا کہ جا کر پہلے مقامی عمائدین سے اجازت لے آئیں تو وہ اندر جانے دیں گے۔ آخر پولنگ سٹیشن کی ہزارہ سے تعلق رکھنے والی پپریذائڈنگ افسر نائلہ زیادہ بہادر اور نڈر ثابت ہوئیں اور فورا پیغام ملنے پر بات ککرنے پر تیار ہوگئیں لیکن انہوں نے بھی سٹیشن کے دروازے پر تین چار پولیس والوں کی موجودگی میں مختصر سی بات کی۔

عورتوں نے ووٹ ڈالنے کے لیےنہیں آنا تھا نہ آئیں۔ سینئر صوبائی وزیر سراج الحق کے حلقے میں بھی یہی صورتحال نظر آئی۔

منڈہ میں جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ ایک امیدوار حاجی کلیم اللہ سے اس کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشتوں پر انتخاب پہلے ہی ہوچکا ہے لہذا زنانہ ووٹنگ کی ضرورت نہیں۔ تاہم دریافت کیا کہ عام نشتوں کے لیےتو وہ ووٹ ڈال سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا اس کی ضرورت نہیں کیونکہ جب مرد کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے تو عورتوں کو آگے لانے کا کیا فائدہ۔

میں نے جتنے بھی پولنگ سٹیشن کا چکر لگایا ہر جگہ یہی حالت دکھائی دی۔ تاہم میاں کلی میں ایک زنانہ سٹیشن پر غیرمتوقع طور پر ابتدائی مخالفت کے بعد عورتوں نے ووٹ ڈالے۔ اس سٹیشن کی افسرہ نائلہ نے بتایا کہ پہلے کافی مرد آگئے اور صورتحال کشیدہ تھی لیکن سکیورٹی فورسز کے آنے کے بعد ووٹنگ شروع ہوئی اور چار گھنٹے میں صرف بیس فیصد ووٹ ہی پڑ سکے ہیں۔

صورتحال پر سرکاری موقف جاننے کے لیےلوئر دیر کے ضلعی ریٹرنگ افسر اعظم خان آفریدی سے ان کے دفتر میں بات کی تو ان کا کہنا تھا عورتوں پر پابندی کی وجہ مقامی رسم و رواج ہیں۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ مردانہ اور زنانہ پولنگ سٹیشنوں کے ایک عمارت میں قائم کرنے سے عورتیں ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔

مبصرین کے خیال میں دیر پائاں میں بھی عورتوں کو ووٹ سے دور رکھنے کی وجہ مذہب سے زیادہ مقامی رسم و رواج ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد